انسانیت کی معراج

حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

اللہ تعالی  آسمان سے ایک لکھی لکھائی کتاب انسانوں کی طرف بآسانی بھیج سکتا تھا، لیکن اللہ تعالی نے یہ طریقہ نہیں اپنایا۔ اللہ تعالی نے قرآن حکیم “Manual of life، “الھدی”، “النور”، “الفرقان”، “الحق”۔۔۔ کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچایا۔ اور یہ سنت اللہ روز اول سے اسی طرح پہلے انبیاء و رسل سے چلی آرہی ہے۔

قرآن اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے اور اس کے لیے جس انسان کو چُنا اسے خاتم النبیین کا عظیم مقام دے دیا۔ جیسے پہلے انبیاء نے دین اسلام کے مطابق اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا، اسی طرح سے حضور نَے بھی اللہ کا پیغام، من و عن، انسانوں تک قرآن کی شکل میں پہنچایا۔ جیسے پہلے انبیاء کیا کرتے تھے، اسی طریقہ پر چلتے ہوئے حضور نے اللہ تعالی کے قوانین، اصولوں، اور مستقل اقدار کے تحت ایک انسانی معاشرے کو تشکیل دیا؛ انسانی فلاحی ریاست۔

ہر نبی/رسول یہ اعلان کرتا تھا کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے حضور سے بھی واضح الفاظ میں اعلان کروایا۔

 

….قُلْ اِنَّـمَٓا اَنَا۬ بَشَرٌ مِثْلُكُمْ

Surah Al-Kahf, Verse 110

Say I am only a Human like You…

میں تمہارے ہی جیساایک انسان ہوں

اس اعلان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قرآنی قوانین، اصول اور مستقل اقدار ایسی ہیں کہ اس تعلیم کے ذریعے ہر انسان اس پر عمل کر سکتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں، حضرت محمد نے اعلان کیا:

  1. دیکھ لو! میں اس قرآن کی تعلیم کے مطابق عمل کرتا ہوں۔
  2. میں تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں۔
  3. اگر میں اس قرآنی تعلیم کے مطابق عمل کر سکتا ہوں تو یقیناً تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔

Each Allah SWT’s Law, Principle and permanent value is  “PRACTICAL”

اللہ کے رسول کا یہی عمل تھا جسے دوسرے انسانوں کے لیے أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی BEST MODEL قرار دیا گیا۔

دو مقامات پر قرآنِ حکیم نے أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌۭ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ

 تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا طرزِ عمل بہترین نمونہ ہے۔

Allah (SWT) ordered our Nabi (SAW): You have the Excellent model of Ibrahim and his companions.

the basic features of “model” of Ibrahim as explained in Quran:

Styled List
  1. To understand the importance of personal relations as compared to Allah (SWT) Laws Principles and Permanent Values.
  2. Hazrat Ibrahim categorically told the people (including those with whom they had blood relations); we are disgusted with you and your deities which you worship, leaving Allah (SWT) aside.
  3. He totally rejected the way of life of the people, including his own father, and considered it wrong.
  4. He also stated that there will always be enmity and hatred between us.
  5. Hazrat Ibrahim even abandoned his father (9:114, 14:41, 19:47).
  6. Hazrat Ibrahim and his companions ignored the power, strength and authority of their people (from all angles), and broke their relationship with them.
  7. Hazrat Ibrahim and his companions declared to their RABB, “We have complete faith and trust in the TRUTHFULNESS of your Laws, Principles and Permanent Values. We will leave everything aside and consistently follow your Divine Laws….
  8. Also, every step in our Journey of life shall be towards your Laws as that is the only Goal of our Lives.
  9. Hazrat Ibrahim was not just an individual but a “community” in himself, and exclusively obedient with complete focus on Allah (SWT) Laws, Principles and Permanent Values.
  10. Allah (SWT) selected him for high office, guided him to the straight path and bestowed on him everything that was “good” in this life, and in the life hereafter he would be ranked among the “Saliheen”. (16:120-122)
  11. He never compromised with the “MUSHRIQEEN”. (16:120)
  • اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ ہر باطل سے منہ موڑ کر اسوۂ ابراہیم کی پیروی کریں۔
  • حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام خوبیوں کا مجموعہ تھے۔
  • انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہر باطل سے کنارہ کشی اختیار کی۔
  • وہ ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ تھے جو اللہ کے سوا کسی اور کو فرمانبرداری کے لائق سمجھتے ہوں۔
  • وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کرتے تھے۔
  • اللہ تعالیٰ نے انہیں “توحید” کے اولین علامتی گھر (کعبہ) کی تعمیر کے لیے منتخب فرمایا۔
  • اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی سیدھے اور متوازن راستے (صِرَاطِ ٱلْمُسْتَقِيمِ) کی طرف کی۔
  • حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لایا اور معاشرے کی اصلاح کی۔


اسوۂ حسَنَہ سے متعلق دوسرا مقام، حضور رسول اکرم
کی حیاتِ طیبہ میں جنگِ احزاب کا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی فوجوں کو اس قدر جان توڑ مشکلات کا سامنا تھا جس کا ذکر سورۂ احزاب (33) میں تفصیلًا آیا ہے۔ جب مقابلے کی شدت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی تھی تو مسلمانوں سے کہا گیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب 33:21)

تم نے دیکھا کہ سخت مصائب میں بھی حضور رسول اکرم
کتنے ثابت قدم رہے، تو یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول کا طرزِ عمل بہترین مثال ہے۔ کتنا واضح پیغام!! پھر سن لیں: حضور رسول اکرم
جنگ میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے مقام کو روشنی کے مینار کی طرح، جم کر کھڑے تھے۔ آپ کے قدموں میں ایک لمحے کے لیے بھی کسی قسم کی لغزش نہ آئی، اور نہ ہی حضور کے دل میں کسی قسم کا خوف و ہراس پیدا ہوا۔ قرآنِ کریم میں حضور
کی حیاتِ طیبہ کثرت سے بیان ہوئی ہے کہ آپ
کا اسوۂ حسَنَہ اور سیرت آئینے کی طرح سامنے آ جاتی ہے۔ قرآن نے ان سب گوشوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

حضور سے پہلے عرب کے حالات

اگر حضور سے پہلے کے دور پر نظر ڈالی جائے تو فضائے عرب میں بھیانک تاریکیاں نظر آتی ہیں۔ صرف چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:

  • نوعِ انسانی بربریت کا شکار ہو رہی تھی۔
  • ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کے خون کا پیاسا تھا۔
  • آئین و ضوابط کا تصور ہی موجود نہیں تھا۔
  • قدیم قبائلی ضوابط اپنی قوت اور احترام کھو چکے تھے۔
  • ہر طرف فساد ہی فساد نظر آتا تھا۔
  • تہذیب و تمدن سخت Unbalanced اور لڑکھڑا رہی تھی۔
  • عقیدت و احترام کی کیفیت نہایت کھوکھلی ہو چکی تھی۔
  • قبیلوں کے درمیان لڑائی روز کا معمول بن چکی تھی۔
  • پرانی کچھ رسومات کی بندش سے معاملات بیساکھیوں پر چل رہے تھے اور اس کا بھی خطرہ تھا کہ یہ اب گریں اور اب گریں۔

The Process of WAHI

“کلام اللہ” سے “لقول رسول کریم” تک

(قرآن پاک سے اخذ)

  1. کلام اللہ – الحق (Perfect, complete, well-protected, Unambiguous, unchangeable, Un-alterable, DEEN/ISLAM)
  2. وحی الٰہی (اللہ کی وحی) “The Message of Allah SWT”
  3. رُوحُ الْأَمِينِ (وحی کے پیغام رسان کے آئے)
    رُوحُ الْقُدُسِ (Respectable) “Trustworthy Angel Brought it down
  4. عربی مبین میں کلام اللہ (عربی مبین: فصیح و شاف و شفاف)
  5. اللہ تعالیٰ کی طرف سے تَنْزِيلٌ (رَبُّ العٰلَمِينَ نے نازل کیا)
  6. قلب محمد ﷺ پر نزول پھر
  7. لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ بنا اور قُرآنٍ حَكِيمٍ کہلایا
  8. حضور سے کہلوایا: “بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ”
  • میں اللہ کا عَبْد ہوں “بَشَرٌ مِثْلُكُمْ” (تمہارے جیسا “بشر”)
  • دین کے ساتھ “خَالِصَةً” مُخْلِص (اور اس کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست کا قیام)
  • أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ / أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ
  • میں شرک نہیں کرتا۔ اگر یہ کروں تو یہ معصیت ہو گی، اور اس کی سزا سے مجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔
  • میری یہ مجال نہیں کہ میں اپنی مرضی سے قرآن میں کوئی ردو بدل کر سکوں۔ اگر ایسا کروں تو یہ بہت بڑی معصیت ہو گی، اور پھر مجھے تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔