QUALITIES OF MOHSINEEN/SALIHEEN
الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (سورة آل عمران , آیت 134)
زندگی کی ہر حالت…. غم ومسرت اور تنگی اور آسودگی…. میں‘ اپنی محنت کی کمائی کو نوع انسان کی پرورش کے لئے کھلا رکھتے ہیں۔ جو اپنی زائد قوت اور حرارت کو Violent passions/Anger (خواہ مخواہ مشتعل ہو کر تباہ و برباد کر دینے کے بجائے) تعمیری کا موں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں‘اور اِس بات کا قطعاً خیال نہیں کرتے کہ‘ دوسروں کی طرف سے‘ اُن کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ اُن کا مقصد اپنی ذات اور معاشرہ میں حسن پیدا کر نا ہوتا ہے۔ اور یہ روش نظامِ خداوندی کے نزدیک بڑی پسندیدہ ہے۔
Allah likes the Mohsineen.
Who are Mohsineen/Saliheen?
There are many AYA’AT in Quran related to the subject of Balance and Stability of Societies/Nations.
MOHSINEEN (محسنين)
(HUSN KARANA KAAM KARNAIN WALAY)
حسن کارانہ کام کرنے والے
THOSE WHO BEAUTIFY:
1. Their own lives; beautiful, best and balanced life; HUSN,
2. Other’s lives; promoting HUSN in other’s lives, and in parallel,
3. Universe; Promoting HUSN of Universe (Husn-e-Qa’aynaat),
Utilizing the best of GOD-GIFTED Potentials/Abilities (actualization) in line with Allah swt’s Laws, Principles and Permanent Values.
As we know, “HUSN” means Best, Beautiful and Balanced.
محسنين وہ ہیں جو معاشرے کی ناہمواریوں کو دور کرنے میں ہمہ تن انتھک کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ (سورة لقمان , آیت 2)
یہ اُس ضابطہ حیات کے قوانین ہیں جو سرتاسر حکمت پر مبنی ہے۔
These Laws are from the code of life which is FULL of wisdom.
دًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ (سورة لقمان , آیت 3)
اِس میں‘ ان لوگوں کے لئے جو حسن کارانہ انداز سے زندگی بسر کرنے کے متمّنی ہوں‘ سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی‘اور ان کی انسانی صلاحیتوں کی نشوونما کا سامان ہے۔
This Book provides guidance towards a straight path; SIRA’AT-E-MUSTAQEEM for those who are desirous of spending their lives in a balanced and graceful manner; and presents means for the development of their human abilities and actualization of their GOD-GIFTED Potentials to Serve the Humanity/Society. They are Mohsineen.
THEN WHAT MOHSINEEN DO?
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ (سورة لقمان , آیت 4)
یعنی ان لوگوں کے لئے جو ایسا نظام قائم کرتے ہیں جس میں تمام افراد معاشرہ‘ قوانین خداوندی کی اطاعت کرتے چلے جائیں۔ اورجو تمام نوعِ انسان کی پرورش کا سامان بہم پہنچائے۔ ایسا نظام وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جنہیں اس حقیقت پر یقین ہو کہ زندگی‘ اس دنیا کی زندگی نہیں۔ اس سے آگے بھی جاتی ہے۔ اور اُس زندگی میں مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اِس زندگی میں قوانین خداوندی کا اتباع کرتے ہوئے‘ نوع انسان کی پرورش کا انتظام کریں۔
These are the people who establish a system wherein everyone obeys the Divine Laws; and which provides sustenance to all the human beings. The only people who can establish such a system are those: who have implicit faith that there is life after this worldly life; who deserve to live that life; and who acquire the capability of progressing further through providing means of nourishment to others, as required by the Divine Laws.
اُولٰۗيكَ عَلٰي هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۗيكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورة لقمان , آیت 5)
یہی لوگ ہیں جو االلہ کے بتائے ہوئے صحیح راستے پر چلتے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی کھیتیاں پروان چڑھتی ہیں۔
They follow the right path; SIRA’AT-E-MUSTAQEEM as guided by their Rabb; and they will attain a happy state, flourish and will be ultimately SUCCESSFUL.
a student of Quran (a reminder for myself)