QURAN TELLS US ABOUT THE PEOPLE WHO CANNOT GET GUIDANCE

قرآن ان لوگوں کے بارے مین بتاتا ہے جو ہدایت حاصل نہیں کر سکتے


اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور FREE WILL بھی دی۔
دو راستوں میں سے ایک انتخاب کرنے کی CHOICE بھی دے دی۔ منزل پر پہنچنے کا راستہ بتا دیا:
– صراط مستقیم
– صراط الطاغوت
منزل مقصود کو واضح طور پر DEFINE بھی کر دیا۔
مختلف دو راہوں پر رہنمائی کے لئے SIGN POST لگا دیئے کہ کونسا راستہ کدھر جاتا ہے۔
راستے میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں WARN بھی کر دیا۔

اب اگر کوئی شخص ان نشانات راہ کی طرف دیکھے ہی نہیں، اور اگر پڑھ بھی لے لیکن ان پر توجہ نہ دے اور اپنی مرضی سے جدھر جی چاہے منہ اٹھا کر چل دے تو پھر ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو راہ نمائی نہیں مل سکتی اور وہ بھٹکتا رہے گا اور اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ پائے گا۔

قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ کن کو ہدایت نہیں ملتی۔

1. THOSE WHO WALK BLINDLY

جو آنکھیں بند کر کے چلیں

35: 19 to 22 (Al-Fatir)

وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ
(سورة فاطر , آیت 19)

کیا اندھا اورآنکھوں والا‘ دونوں برابر ہوتے ہیں؟

Are the blind and the ones who can see, equal?

وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ
(سورة فاطر , آیت 20)

کیا تاریکی اور روشنی ایک جیسی ہوتی ہے؟

Are darkness and light alike?

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ
(سورة فاطر , آیت 21)

کیا دھوپ اور سایہ یکساں ہوتے ہیں؟

Are the cool shade and the scorching sun alike?

وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ
(سورة فاطر , آیت 22)

یا‘ کیا مردہ اور زندہ برابر ہوتے ہیں؟

The Divine Law is that only those who want to listen can hear. You cannot make the dead who are lying in their graves listen to you.

سورہ یونس میں ہے:

10: 43 (Yunus)

اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ
(سورة يونس , آیت 43)

…..سوچو کہ تم ایسے اندھوں کو کس طرح راستہ دکھا سکتے ہو جو عقل وبصیرت سے کام نہ لیں؟

There are some amongst them who seem to look to you for guidance but their thoughts are elsewhere. You cannot make such blind people to see when they do not want to reflect.

سورہ لقمان میں ہے:

31: 7 (Luqman)

لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا……
(سورة لقمان , آیت 7)

ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں کسی کے سامنے اللہ کے قوانین پیش کئے جاتے ہیں‘ تو وہ نہایت متکبرانہ انداز سے‘ منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کے کانوں میں ڈاٹ لگ رہے ہیں‘ جن کی وجہ سے اس نے سنا ہی نہیں کہ اسے کیا کہا گیا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔

Their condition is such that whenever the Divine Laws are presented to one of them he turns away in extreme arrogance, as if his ears are plugged and he has heard nothing.۔۔۔۔۔

16: 37 (An-Nahl)

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ
(سورة النحل , آیت 37)

(اے رسول! ہم جانتے ہیں کہ) تیری دلی آرزو ہے کہ یہ لوگ صحیح راستہ اختیار کر لیں (اور اس طرح تباہی سے بچ جائیں)۔ لیکن جو لوگ (اس اختیار کے مطابق جو انہیں اللہ نے دیا ہے) غلط راستہ اختیار کر لیں‘ تو اللہ انہیں‘ زبردستی‘ سیدھی راہ پر نہیں چلایا کرتا۔

O Rasool! We know that you ardently desire that these people should take the right path. Those who deliberately go astray cannot be compelled to follow the right path. They shall have to face the consequences of their actions and no one will be able to help them.

TASREEF-E-AYA’AT (OTHER REFERENCES)

18: 6 (Al-Kahf)
27: 80 & 81 (An-Naml)
28: 56 (Al-Qasas)
32: 52 & 53 (As-Sajdah)