THE GREATEST MESSAGES OF AHSAN-AL-HADITH: احسن الحديث
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (سورة العنكبوت , آیت 2)
کیا یہ لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ محض اتنا کہہ دینے سے کہ ہم االلہ پر ایمان لے آئے ہیں انہیں چھوڑ دیا جائے گا کہ اب جو جی میں آئے کرو۔ تم نے مطالبہ پورا کر دیا ہے! اگر یہ ایسا سمجھتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم نے بالکل غلط سمجھا ہے۔ (یہ تو انسانوں کی خود ساختہ عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ تم مسیح کے کفارہ پر ایمان لے آﺅ تو نجات ہوجائے گی۔ اس کے لئے اعمال کی کوئی ضرورت نہیں)۔ یہ غلط ہے
(The clash between Kufr and Eiman has reached a stage where both groups have to be cautioned about the end result of their way of life. Take, for instance, the first group, who accept the truthfulness of Our Laws). Do they believe that merely by saying/uttering from mouth that they profess E’man on Allah, they will be left to themselves to do whatever they like? (If they are under such an impression then) tell them that they are wrong. (This is the belief in Christianity as practised today, in that if one believes in the atonement of Christ, they would be saved. There is no need to do any work.).
IN OTHER WORDS
Do people think that they will be left (at ease) SIMPLY because they say, “We believe” and they will not be put to test (through tough opposition/obstacles/hindrances).
IMPORTANT NOTE
Mere belief will NEVER suffice for Salvation and Success.
زباں سے کہہ بھی دیا “لا اله” تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورة التوبة , آیت 16)
اے جماعت ِمومنین! کیاتم سمجھ رہے ہو کہ چونکہ تم نے ایمان کا اقرار کر لیا ہے اس لئے‘ اب‘ تمہارے لئے سب کچھ خود بخود ہوتا چلا جائے گا اور تمہیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی؟ یہ خیال خام ہے۔ دعوائے ایمان کے بعد‘ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ تم میں سے کون ہے جو اللہ کے نظامِ کے قیام واستحکام کے لئے مصروفِ جدوجہد رہتا ہے‘ اورا للہ اور اس کے رسول اور جماعت مومنین کے علاوہ‘ اور کسی کو اپنا دوست اور راز دار نہیں بناتا۔ یادرکھو! اللہ کی نگاہ تمہارے کاموں پر ہوتی ہے۔ فقط ایمان کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔
O Jama’at-ul-Momineen! do you think that the victory promised to you will come to you even if you do nothing? After your profession of faith, it will be made known who amongst you struggled hard in the cause of Allah, and befriended none other than Allah, the Rasool and the Jama’at-ul-Momineen. Allah is fully apprised of what you do۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ
(سورة البقرة , آیت 214)
اِس جنتی معاشرہ کے قائم کرنے کے لئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…. سو‘ اے جماعت ِمومننین! تم یہ نہ سمجھ لینا کہ تم اِس معاشرہ کو یونہی قائم کر لو گے‘ اور‘ مفت میں‘ جنت میں داخل ہو جاﺅ گے۔ ایسا نہیں ہو سکے گا۔ تمہیں بھی اُن جاں گداز مراحل سے گذرنا پڑے گا جن سے وہ لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اِس سے پہلے‘ اِس اِنقلاب آفرینی کی کوشِش کی۔ سختیاں اور مصیبتیں اُنہیں چاروں طرف سے گھیر لیتیں۔ اُن کی شدت سے اُن کے دِل دہل جاتے۔ یہاں تک کہ وہ‘ اور ان کا رسول‘ پکار اُٹھتے کہ بار الٰہا! ہماری کوششوں کی بار آوری کا وقت کب آئےگا ۔ ایسے ایسے ہمت شکن اور صبر آزما مراحل کے بعد کہیں جا کر ان کی کوششیں کامیاب ہوتیں۔
تمہیں بھی انہیں مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
OTHER REFERENCES:
3: 142 (Aa’l-e-Imran)
33: 10 & 11 (Al-Ahzab)
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشاہ ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف.
IMPORTANT NOTE:
We must be TRUE TO OUR WORDS: E’MAN MUST BE PRACTICED TO PROVE THAT WE ARE AS-SADIKOON: الصادقون
يدخل الا يمان فى قلوبكم
BELIEVING IS SEEING
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اُولٰۗيكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ
(سورة الحجرات , آیت 15)
مومن انہیں کہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (علیٰ وجہ البصیرت) ایمان لائیں۔ اس طرح کا ایمان کہ اس کے بعد‘ ان کے دل میں ذرا سا بھی اضطراب اور شک باقی نہ رہے۔ اور وہ پھر‘ اس نظام کے قیام اور استحکام کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے رہیں، اور اس کے لئے اپنا مال بھی خرچ کریں‘ اور ضرورت پڑے تو جان تک بھی دیدیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعوے ایمان میں سچے ہیں۔
The Momineen are those who profess E’man in Allah and His Rasool (after pondering over it) in a way that there remains no doubt in their minds whatsoever; and they make continuous efforts and strive hard to establish and strengthen this Order. They spend their wealth and if the occasion/circumstance demands, give their lives for this purpose/cause. These people are true to their commitment.
Also, see 4: 136 (An-Nisaa) and 2: 8 (Al-Baqarah)
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قراں زیستن