THE UNDERSTANDING OF QAWWA'MOONA قومون FROM IT'S ROOT ق و م

UNDERSTANDING (4: 34; An-Nisaa) الرجال قوامون على النساء …….

First Reference to the Context:

4: 32 (An-Nisaa)

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ ۭ وَسْـــَٔـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِـــيْمًا (سورة النساء , آیت 32)

ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں‘ اس غلط تصور کا ازالہ بھی ضروری ہے جس کی رُو سے سمجھا جاتا ہے کہ حقوقِ ملکیت مرد کو حاصل ہوتے ہیں‘ عورت کو نہیں ہوتے۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے (4 :7) ‘ عورت اپنے مال وجائداد کی آپ مالک ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ کمائی کرنا صرف مردوں کا کام ہے‘ عورتیں ایسا نہیں کر سکتیں مرد اور عورتیں‘ سب اکتساب ِ رزق کر سکتے ہیں۔ جو کچھ مرد کمائے وہ اس کا حصہ ہے۔ جو عورت کمائے وہ اس کا حصہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ جہاں تک فطری فرائض کا تعلق ہے‘ بعض باتوں میں مردوں کو برتری حاصل ہے اور بعض میں عورتوں کو۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتیں اپنے آپ کو اپاہج بنا کر‘ مردوں کی کمائی کو تکتی رہیں اور خود کچھ نہ کریں۔ انہیں چاہئے کہ الله سے زیادہ سے زیادہ معاشی اکتساب کی توفیق طلب کرتی رہیں۔ الله خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کچھ کر سکتی ہیں۔

The earning capacity of individuals differs but each person should strive hard to increase his or her capacity to earn. Men shall have what they earn and women shall have whatever they earn. Allah has knowledge of all things.

4: 33 (An-Nisaa)

<

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا (سورة النساء , آیت 33)

مردوں اور عورتوں کے جداگانہ حقوق ِملکیت کا فطری تقاضا ہے کہ مرنے والے کے ترکہ میں اِن سب کا حصہ ہو…. صرف مردوں ہی کا نہ ہو…. چنانچہ‘ جو کسی کے والدین یا اقربا چھوڑ جائیں‘ ہم نے اس کے لئے حصے دار مقرر کر دئیے ہیں ۔ یہ صرف نسبی رشتوں تک محدود نہیں۔ عقدی رشتے (میاں بیوی) بھی اس میں شامل ہیں۔ بلکہ اصول یہ ہے کہ عقدی رشتہ داروں کا حصہ پہلے نکال کر ، پھر نسبی رشتے داروں کے حصہ تقسیم کرو۔( اس طرح ،بیوہ کو اپنےمرحوم خا وند کے ترکہ سے سب سے پہلے حصہ ملے گا) ۔ اسے اچھی طرح یاد رکھو کہ خدا کی نگاہ ہربات پر رہتی ہے۔

Men and women own not only what they earn but also have their prescribed shares in inheritance as explained earlier (4:12 & 13). In distribution of inheritance contractual relatives have precedence over blood relatives. Truly Allah is witness to all things.

Keeping in view, 4: 32 & 33, now ponder 4: 34

4: 34 (An-Nisaa)

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ۭ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاهْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا (سورة النساء , آیت 34)

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے‘ جہاں تک فطری فرائض کا تعلق ہے‘ مردوں اور عورتوں کی بعض صلاحیتوں میں فرق ہے۔ کسی میں مردوں کو برتری حاصل ہے‘ کسی میں عورتوں کو۔ ان فرائض کی سر انجام دہی کا نتیجہ ہے کہ عورت‘ بیشتر وقت کے لئے کسبِ معاش سے معذور ہوجاتی ہے اور اس کی ضروریات کا کفیل مرد ہوتا ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس سے مرد کو عورت پر کوئی خاص حقوق حاصل ہوجاتے ہیں۔ مرد اور عورت کے حقوق اور فرائض دونوں‘ برابر کے ہیں (2: 228 ),( 33: 35 )- جب صورتِ حالات یہ ٹھہری کہ بعض فطری فرائض ایسے ہیں جنہیں عورت ہی سر انجام دے سکتی ہے‘ مرد نہیں دے سکتے۔ اور ان فرائض کو سر انجام دہی کے سلسلہ میں‘ عورت کو جو عارضی معذوری پیش آتی ہے اس کی وجہ سے مرد کو اُس پر کوئی خاص فوقیت حاصل نہیں ہوجاتی‘ تو نہ مرد کے دل میں کسی قسم کا احساسِ برتری پیدا ہونا چاہئے‘ نہ عورت کے دل میں احساسِ کمتری۔ لہٰذا‘ اللہ نے ِ،عورتوں کو جو مضمر صلاحیتیں ودیعت کر رکھی ہیں‘ انہیں چاہئے کہ ان کی حفاظت کریں اور (جب تک کوئی خاص عذر لاحق نہ ہو) اس مقصد کو پورا کریں جس کے لئے وہ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ا ور یوں قانونِ فطرت کی اطاعت کریں۔ لیکن‘ اس کے باوجود‘ اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ عورتیں (بلا کسی معقول وجہ کے) اس سے سرکشی اختیار کر لیں‘ تو ارباب حل وعقد کو چاہئے کہ انہیں سمجھانے کی کوشِش کریں۔ اگر وہ اِس سے بھی صحیح راستے پر نہ آئیں‘ تو اگلا قدم یہ ہونا چاہئے تو اُن کے خاوند وں سے علیحدگی اختیار کر لیں اور اس نفسیاتی اثر سے ان میں ذہنی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشِش کریں۔ اور اگر وہ اس پر بھی سرکشی سے باز نہ آئیں‘ تو عدالت انہیں بدنی سزا بھی دے سکتی ہے۔ لیکن جس وقت وہ قانون کی اِطاعت کر لیں‘ تو پھر اُن کے خلاف کوئی راہِ عقوبت تلاش نہیں کرنی چاہئے۔ یاد رکھو! نظامِ خداوندی میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ قانون سے سرکشی برتنے والوں کو سزا دے سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں اتنی بلند نگہی بھی ہوتی ہے کہ سرکشی چھوڑ دینے والوں کے خلاف انتقام

کے جذبات نہ اُبھریں۔ اُن سے درگزر کر لیا جائے۔ (مردوں کی طرف سے سرکشی کا ذکر (4 :128) میں آتا ہے۔)

As stated earlier, women own what they earn but due to biological reasons, they are incapacitated for considerable periods of time, to earn a living. Due to this fact it is obvious and natural that the responsibility for maintaining the family is vested in men[*1]. When women are given such protection then they must fulfill their functions as women faithfully and safeguard their potentialities. If notwithstanding all this, those in authority apprehend defiance on the part of women with regards to the performance of their natural functions, they should, in order to correct such a behaviour, first admonish the women, then, if required, separate them temporarily from their husbands, or intern them, and finally, if necessary, punish them otherwise. Allah’s Laws must prevail. If they submit to them then seek no occasion against them.

*1- Qawwaamoona is generally translated as ‘men are protectors, guardians, managers over women and superior to them. Generically, some people don’t give enough credence to women in the world. Culturally women are doubtlessly thought of as an inferior creation, whereas the Quran considers both sexes equal. However, from a Quranic perspective, the female has a position perhaps far greater than her counterpart. Not only does she give birth, nurturing the very miracle of life, but also fashions the very future of a nation. The child she brings into the world is surely one of the greatest responsibilities, if not the greatest; its nourishment, education, and development are all in the hands of the mother.