AL-QADR القدر
سُورَةُ القَدْر (97)
Al-Qadr (To the Best of my understanding of QURAN)
Background
قرآن الحکیم کے نزول کی ابتداء رمضان کے مہینے میں عظمتوں والی رات میں ہوئی جسے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کہا جاتا ہے۔ (2:185)
Quran shows all Humanity the CLEAR PATH leading to its ultimate GOAL, and reveals those Permanent Values (مستقل اقدار) to GUIDE how one can VIVIDLY distinguish TRUTH from Falsehood (حق اور باطل), absolute RIGHT and WRONG (so Quran is also “الفرقان”).
Quran also GUIDES us the PURPOSE of SOUM (Annual Training Program) during the month of Ramadan. It’s purpose is to enable us to establish SUPREMACY of ALLAH SWT’s Laws, Principles and Permanent Values (the DIVINE SYSTEM) in the world in the light of the GUIDANCE given to us (see 9:33) and also enable us to nourish/grow/enhance our own God-gifted potentials.
One of the important aspect of it is to keep in mind that the purpose of SOUM (Abstinence) is to create in ourselves the SELF-DISCIPLINE by which we can distinguish what is Lawful and Unlawful in all walks of LIFE.
We all know that the period before Quran is called “DARK”. Quran was revealed through Gabriel on the Exalted Rasool’s heart in the month of Ramadan. It’s order and arrangement is EXACTLY as we have Quran in our Hands today.
Quran doesn’t say that the revelation started on 27 Ramadan (generally understood as Laila-tul-Qadar). See 97:1.
Quran was revealed to mankind in STAGES over a period of about 23 years.
Note: Duplication is added intentionally for better فہم understanding.
سب سے پہلے “القدر” کے معنی کو دیکھ لیتے ہیں
قدر — پیمانے
*Measures
* ایسی چیزیں جن سے کچھ ناپا جائے۔
* Yardstick
* A standard used for comparison
* Criterion
* Majestic
یہ پیمانے Physical Items کے لیے نہیں بلکہ کسی دنیا میں اشیاء کو جانچنے کے لیے
جو Permanent Values ہیں ان کو “اقدار” کہتے ہیں۔
انسان کو اچھا یا برا، نفع یا نقصان، خیر یا شر — Good or evil, Right or Wrong۔
انہیں ماپتا ہے ۔ ان کا تعین کرتا ہے اور پھر اِن کے متعلق فیصلہ کرتا ہے ۔ ہر چیز کے لیے کسی Yardstick کا ہونا ضروری ہوتا ہے
اور اسی کو پیمانہ کہتے ہیں اور ” قدر” کہتے ہیں ۔
اللہ تعالٰی نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قران حکیم میں پیمانے دیے ہیں تا کہ انسان اپنے پر معاملہ کو ، جو اسے پیش آتا ہے ، ان اقرار پیمانوں کے معیار پر پرکھ لے کہ اس میں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ، خیر کیا ہے اور شر کیا ہے ۔ کونسی چیز نفع بخش ہے اور کونسی نقصان پہنچانے والی ۔ یہ ہیں وہ معیار پیمانے جو قرآن کریم نے انسانوں کو دیئے ۔ اور انہیں کو Permanent Values کہتے ہیں اور یہی اللہ تعالٰی کی دی ہوئی مستقل اقدار ہیں ، جس سے وہ انسانوں کو روشناس کراتا ہے ۔ ان پیمانوں میں مندرجہ ذیل بھی شامل کریں:
اپنی اور بلندی کو جانچنے کے پیمانے
معاشرے میں مختلف انسانوں کی Position status کا تعین کرنے
کے پیمانے
. اپنے اور بیگانے کا یقین کرنے کے لئے پیمانے مرد اور عورت کی Position مقرر کے پیمانے
Role
قران کریم نے دنیا کو نئے پیمانے دیئے ثالوں سے بات مزید واضح ہو جائے گی۔
انسان پہلے مختلف اشیاء سے ڈرتا تھا ۔بہت کمزور تھا۔
. بادل کی گرج۔
. بجلی کی چمک ۔
. ہوا کی تندی / تیزی۔
• اندھرا۔
و غیره۔
ان سب سے بچنے کے لیے انسان نے اپنے لیے مختلف دیوتا بنا رکھے تھے ۔ اور اُن کے سامنے جھکتا تھا کہ یہ دیوتا انہیں مختلف” آسمانی بلاؤں ” سے محفوظ کر دیں گے۔
قرآن نے آکر بتایا کہ یہ کائناتی قوتوں ہیں اور ان کو انسان مسخر کر سکتا ہے اور ان سب کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ دیکھیئے 13 :45 ( الحاشیه ) ۔
قرآن نے انسان کا زاویہ نگاہ بالکل بدل دیا ۔ انسان کو اس کی طاقت سے روشناس کرایا ، وہ علم دیا ، جس سے وہ ان کائیناتی قوتوں (Forces of Nature) کو اپنے Control میں لا سکتا ہے اور انسان اس کی ابتداء ، خاص طور پر نزول قرآن کے بعد، کر چکا ہے نہیں کرتا ۔ اور یوں انسان
اب وہ آسمانی بجلیوں کے سامنے سجدہ کی نگاہوں کے زاویے بدل گئے۔
عزت اور ذلت ” کے پیمانے بدل دیئے۔
انسان جہالت کے دور میں ( اور کافی جگہوں پر اب بھی ) پیدائش کے اعتبار سے عزت اور ذلت کے پیمانے مقرر کرتا تھا ۔ مثلاً “برهمن ” اور شودر ” – قدر و قیمت اور علم و فہم کا کوئی معیار نہیں تھا۔
یا ….. ( سید کے گھر پیدا ہونے والا بچہ) ۔
کوئی Merit نہیں تھا ۔ یہ ایک غلط پیمانہ تھا جو انسان نے اپنی جہالت کی وجہ سے مقرر کیا تھا ۔
قرآن نے آکر کہا –
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ
(بنی اسرائیل) 17:70
ہر انسانی بچہ پیدائش کے اعتبار سے یکساں طور پر واجب عزت و تکریم ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک پیمانہ بدلنے سے انسانی زندگی میں کتنا بڑا انقلاب آگیا ۔ انسانیت آہستہ آہستہ جو صبح پیمانے مقرر کر رہی ہے وہ سب وحی کے ذریعے سے ہی پہنچ سکی ہیں ۔ یہ ” مستقل اقداد” انسان خود انسانیت کے لیے نہیں بنا سکتا۔ جہاں تک مدارج کا تعلق ہے تو قرآن نے Categorically بتا دیا کہ:
إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ
49:13 (الحجرات )
اللہ تعالی کی نگاہ میں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ صاحب کردار ہے
According to Allah’s Laws the Criteria to determine STATUS or SUPERIORITY is how CLOSELY and CONSCIOUSLY ONE FOLLOWs and GUARDS THE ALLAH’s Laws, Principles and Permanent Values, the one whose whole LIFE is in line with the above Criteria is MOST WORTHY OF RESPECT (may either be man or woman), and not RACE or STATUS, but Personal Character and Behaviour.
پیمانے بدل گئے ۔ اور
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُوا
46:19 Al-Ahqaf
ہر شخص کے درجے اس کے اعمال کے مطابق مقرر ہوتے ہیں ۔
اللہ کا قانون لوگوں کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دنیا ہے ۔
According to the قانون مکافات , everyone will get full reward of their deeds. Position/Status will assigned in accordance with his DEEDS, “None” will be granted ANY FAVOUR and NO one will be WRONGED.
اور تخلیق کے اعتبار سے عورت اور مرد” بالکل برابر اور دنیا میں بقا کا معیار ، استحکام کا Criteria :
وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ
13:17. Ar-Ra’d
قرآن نے معیار بتایا کہ:
جو کوئی انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، زمین پر صحیح معنوں میں قیام تو اسی کا ہے ۔
That which
is beneficial for the
Humanity ENDURES
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو انسانی نظریہ زندگی ، نظریہ حیات:
تمام انسانیت کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہوگا اسی کی قسمت میں فلاح ، استحکام اوربقا ہو گی ۔
ان مثالوں سے واضح ہو گیا کہ قران عظیم نے نئی Values دے دیں. نئے پیمانے دے دیئے ۔ انہیں اقرار کہتے ہیں ۔ “قدر کی جمع “اقدار”
قرآن کریم نے ایک ایسے دور میں جب صحیح پیمانے دیکھنے کے لیے نور کی ایک ہلکی سے کرن بھی موجود نہیں تھی اور سارے جہان میں تاریکیوں کا راج تھا ، اس زمانے / دور میں قرآن نے آکر نئی ” اقدار” دنیا / انسانیت کو دیں ۔ اور اللہ تعالٰی نے قرآن میں تعارف کروایا :
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ
97:1 Al-Qadr
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
ہم نے قرآن کو اس تاریکی کے دور میں نازل کیا ہے کہ اس سے پیشتر اقدار کو ماپنے کے صحیح معیار نہیں تھے ۔ اسی دور میں پھر ہم نے نئی اقدار دنیا کو دیں ۔
اسی لیے اللہ تعالٰی نے اسے لَيْلَةِ الْقَدْر کہہ کر پکارا۔
لیل ” “جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رات کو کہتے ہیں ۔ وہ دور تاریکیوں اور ظلمات کا تھا ،جس کو اللہ تعالی نے “لیل ” کہہ کر پکارا – الیسا زمانہ کے جس میں ظلمات ہی ظلمات تھیں اور ایک مقام پر اللہ تعالی نے قرآن کے نزول کا سبب بتایا:
كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ
14:1 ( ابراہیم)
اے پیغمبر احکام الہی پرمشتمل یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے نازل کی ہے کہ آپ ، اس کے ذریعے سے بنی نوع انسان کو
جہالت کی باریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے کر آئیں اور اللہ کے قانون کے مطابق انہیں اللہ کی راہ پر ڈال دیں۔
Bring Mankind out of Darkness into “Light” towards the PATH Designed by Allah swt.
کتنی عظیم بات ہے جو قرآن کریم کے متعلق کہی گئی ۔
“ظلمات” جمع کا صیغہ ہے اور “روشنی ” واحد کا صیغہ – کہتے ہیں صحیح جواب صرف ایک ” ہوتا ہے اور غلط جواب بے شمار ہو سکتے ہیں ۔
” تاریکیاں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں اور نور / روشنی ایک ہوگی ۔ قرآن حکیم نے یہ بتایا ہے کہ انسانوں کے خود ساختہ تصورات کی بنا پر جو تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں ، اُن تا دیکیوں سے روشنی کی طرف لے جانے کیلئے ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ۔ یہی وہ ظلمات اور تاریکیاں ہیں جن کو قرآن حکیم نے ” لیل” سے تعبیر کر کے بتا دیا کہ اس دور میں تاریکیاں ہی تاریکیاں تھیں اور اللہ تعالٰی نے نور کی روشنی بھیج دی تاکہ تاریکیاں چھٹتی چلی جائیں۔پھر قران کے دور کو اللہ تعالیٰ نے مبارک دور کہا ہے ، اور پھر وہ ” لیل” جس کو قرآن سے پہلے ظلمات سے تعبیر کیا تھا ، قرآن کے نزول کے بعد وہ لیل ” لَيْلَة مُبَركَة بن گئی۔
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةٍۢ مُّبَـٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
44:3 (الرخان )
اللہ تعالی خود فرماتے ہیں کہ یہ کتاب خود اس بات کی زندہ شہادت ہے کہ یہ واضح بھی ہے اور ہر بات کو وضاحت سے بیان کر دیتی ہے۔ اور ہم نے اسے ایک نہایت مبارک رات میں نازل کیا۔ ہم ہمیشہ انسانوں کو ان کی غلط روش کے نتائج سے آگاہ کرتے آئیں ہیں ۔
Mankind
Received the
STANDARDS
to measure
RIGHT and WRONG
The night became a SUPREME BLESSING for the entire Humanity in the world.
قرآن کی وجہ سے وہ دور بہت ہی بابرکت دور ہو گیا۔ الله تعالی فرماتے ہیں کہ ہم غلط راستوں کی نشاندھی کرتے چلے جاتے ہیں اور صحیح راستے پر نور / روشنی کی تیز کرنیں اس راستے کو خوب نمایاں اور واضح کرتی چلی جاتی ہیں۔ انسانیت کی رہنمائی کیلئے ہمیشہ ” صراط مستقیم ” کی نشاندھی ہوتی چلی آئی ہے ۔ اور اب یہ قران کی شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ۔
Summary
Allah swt revealed this QURAN having Allah swt’s Laws, Principles and Permanent Valves at a TIME when the World was passing through DARK AGE/ERA (without the light Of WAHI جب تمام دنیا وحی کی روشنی سے محروم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہی تھی ) Therefore, the night when tthe revelation started was indeed the begining of the NEW ERA.
” ایک نیا دور “
“A MAJESTIC, EXALTED, SUPREME ERA”
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ
اور تم کیا جانو کہ یہ عظمتوں والی رات کیا ہے؟
who can us, OFCOURSE, better Allah swt how than Almighty SUBLIME and DIGNIFIED the night was when these SHINING / ILLUMINATING Permanent Values (مستقل اقدار ),Laws and Principles were revealed
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
یہ شب قدر ہزار ہا مہینوں سے بہتر ہے (جب دنیا وحی کی روشنی سے محروم تھی ) –
It is said,
“A day of Enligtenment is better than a Life-time of IGNORANCE”,
الف : ایک ہزار
لیکن عرب لوگ اسے “بے شمار” کے معنوں میں استعمال کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں ۔
جیسے ہم اپنی زبان میں بھی کہتے ہیں
” میں نے تمھیں ہزار مرتبہ منع کیا کہ سگرٹ مت پیو لیکن تم میری بات نہیں مانتے۔”
ظاہر ہے اس سے مراد Exactly ” ایک ہزار نہیں ہوتا۔
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّنْ كُلِّ أَمْرٍ
رفته رفته ، بتدریج ملائکہ کی نمود ہوتی چلی جائے گی
اب یہ کائیناتی قوتیں وحی الہی سے Synchronize ہوتی چلی جائیں گی ۔ اور انسان اللہ تعالی کے حکم کے مطابق مختلف امور کا انتظام کرنے والی فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتا جائے گا۔ اور پھر انہیں وحی کی روشنی میں ( اللہ تعالٰی کے قوانین ، اصول اور مستقل اقدار ) انسانیت کے
فائدے کے لیے استعمال کرے گا ۔
اللہ تعالی کی جتنی Schemes and Plans ہیں ، یہ اُن کو بروئے کار
لانے کے لیے مختلف قوتیں ہیں ۔ “Agencies Implementing
Allah swts AMR”
وہ ملائکہ جو آدم کے سامنے سجدہ ریز ہوئے ، وہ یہی فطرت کی قوتیں ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہیں۔ یہ قوتیں اللہ تعالٰی کے قوانین کو بروے کار لاتی چلی جاتی ہیں
ان کائیناتی قوتوں کی نمود آہستہ آہستہ ہوتی چلی جائے گی
۔
انسانیت کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں، نزول قرآن کے پہلے دور میں دیکھیئے (تقریباً 8 ہزار سال) ، فطرت کی قوتوں کی نمود کی رفتار
کیا تھی اور پھر قران کے دور میں فطرت کی قوتیں کسی تیزی کے ساتھ نمودار
ہونی شروع ہو گئی ہیں ۔ اور پھر آجکل کے دور میں دیکھتے تو نت نئے دن ایک نئی قوت کی نمود
ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر کتنی تحیر انگیز بھی ۔ یہ دور ہے جس میں
نزول ملائیکہ بڑی تیزی سے ہو رہا ہے ۔
لیکن ہم آج کی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہر طرف بے چینی اور اضطراب ہے ۔ سکون اور اطمینان کا دور دور تک پتہ نہیں ، ہم جوں جوں سائنس میں ترقی کرتے جارہے ہیں اسی رفتار سے ہماری قوموں کے اندر تخریبی قوتوں کی نمود زیادہ سے زیادہ ہوتی جارہی ہے ۔ ہم اِن کائناتی قوتوں کو اپنے لیے مسخر” تو کرتے چلے جا رہے ہیں لیکن اُن کا استعمال بجائے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے طریقے سے کہ انسانیت کے فائدے اور فلاح و بہود کے لیے ہو ، انسان اِن قوتوں کو لے کر غلط راستوں کی طرف چل نکلا ہے اور پھر ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ انسانیت کس قدر “غیر محفوظ ” ہوتی چلی جارہی ہے کیونکہ ہم نے ان قوتوں پر Control سہی نہیں
رکھا ہوا ۔
کیا کرنا ہوگا ؟
ہمیں ان کائیناتی قوتوں پر ، اللہ تعالٰی کے بتائے ہوئے قوانین اور Control اصولوں کے مطابق ، نہایت Balanced رکھنا ہوگا ۔ – اگر ہم اپنی دنیا میں امن چاہتے ہیں تو اِن کا ساقی قوتوں کو مسخر کرنے کے بعد ان کو ” الروح ” یعنی “وحی” کی روشنی ہیں انسانیت کی فلاح اور بقا کے لیے استعمال کرنا ہوگا ۔ ان سے تخریبی نتائج کے بجائے “تعمیراتی نتائج حاصل کرتے ہونگے۔
(NEGATIVE) (POSITIVE)
دوسرے الفاظ ہیں :
١. مسلسل Hard work ، اللہ تعالٰی کی عنایت کرده potential کا بھر پور استعمال۔
٢. کائیناتی قوتوں کو مسخر کرنا (Balanced Control)
نوٹ : جس تیزی سے سائینس کی ترقی ہوگئی اسی تیزی کے ساتھ ان کائیناتی قوتوں کی نمود ہوتی چلی جائے گی اور انسان زیادہ سے زیادہ Powerful ہوتا چلا جائے گا۔
٣. ان کائیناتی قوتوں کا استعمال ” الروح” کے ساتھ ساتھ- (Under the Umbrella of WAHI) یعنی QURAN کی روشنی ہیں ۔
انسانیت کی بقا اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ اوپر دیے گئے تین points کے امتراج ” Balanced Blend” کرے اور پھر دیکھے کہ Speed of light” کی رفتار سے ہم کائیناتی قوتوں کو انسانیت
کی فلاح کے لیے استعمال کرتے چلے جائیں گے اور اس Planet پر الله کے دیئے گئے نور کی روشنی میں ہم بلندیوں کو چھوتے ہوئے امن اور سکون میں (اطمینان قلب) اور محفوظ سے محفوظ تر ہوتے چلے جائیں گے اور انسان محبت کا نمونہ یہاں اس دنیا میں بنا لے گا ۔
جو انسان اوپر بتائے ہوئے راستےکو نہیں اپنائے گا (کفر کرے گا) اس کا مقام اس دنیا میں بھی عذاب اور آخرت ہیں عذاب عظیم۔
زندگی کے ہر گوشے میں امن اور سلامتی کے لیے ہمیں Three Point AGENDA پر Consistentlyعمل کرنا ہوگا۔
اور پھر :
كُلِّ أَمْرٍ …… سَلَٰمٌ
“The universal forces and the Divine. Revelation will synchronize/Harmonize and work in, concert with every Decree. to carry out Allah SWT Schemes and Plans.
9:5 سَلَٰمٌ هِىَ حَتَّى مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ
PEACE! It is a Message of Peace and Security, and inevitably, a Morning of Enlightenment shall DAWN.
اور پھر :
وَأَشْرَقَتِ ٱلْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا
30:69 (الزمر)And the Earth will Shine with The Light gained by Allah swt (because of following Allahi laws, principles and permanent Values; The Quran). In other words: At that time the Earth (the Human Society) will GLOW with the Effulgence of Allahi’s law of Sustenance (Law of Rabpbbiyyat) and every matter would be decided according to Devine code.
97:5 ہیں :
قران کے “امن” کا لفظ استعمال نہیں کیا ہےبلکہ “سَلَـٰمٌ” کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ “امن” خطرے سے محفوظ ہوتا ، peace بھی بہت ضروری ہے ۔ مومن “امن” کی ضمانت دیتا ہے۔ laws کی پابندی سے امن ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے “سَلَـٰمٌ”کے لفظ کا انتخاب کرکے ایک اور عظیم بات کو واضح کیا ہے۔
سلام / سلامتی’ جس کے معنی ہیں :
جس کے اندر جیسی صلاحتیں ہوں، اُن کی تکمیل کی طرف بڑھتے چلے جانا ، سالم / مکمل ۔ چناچہ سلام میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔
یعنی : سلامتی اور امن
امن : ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ، اور اس امن کے بعد
سلامتی : انسانی صلاحیتوں کی پوری طرح نمود ہوتی چلی جانا ، اُن کی نشوو نما Actaliation Growth ،Self/Personality ، خودی کی GROWTH ہوتی چلی جانا ۔ اور پھر اس میں سالمیت پیدا ہوتے چلے جانا-
Progressively
Every TODAY” is better than YESTERDAY”
(NOT EVEN EQUAL).
اس میں ایک اور پہلو بھی آجاتا ہے اور وہ ہے انسانی ذات Integration کی اور Homogenization-
انسانی Personality ، “خودی میں انتشار نہ ہونا۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ وہ دور آیا ہے جس میں فطرت کی قوتیں اور وحی باری تعالٰی کی آہستہ آہستہ نمود ہوتی چلی جائے گا اور انسانی صلاحیتوں کو Enhancement / Eminence ملے گی۔
فطرت کی قوتوں کو مسخر کرنا مومن کا بنیادی فریضہ ہے اور پھر اُن کو وحی الہی کے مطابق استعمال کرنا ۔
نتیجہ:
سلامتی اور انسانی ذات / خودی کی بھر پور نمود۔
فطرت کی قوتوں کا CONTROL انسان کے ہاتھ میں اور انسانی ذات وحی الہی کے CONTROL میں ، پھر “سَلَـٰمٌ” ،”سَلَـٰمٌ” ، ہر طرف ہر گوشے سے سلامتی کی آواز ۔
یہ ایک Continuous and Consistentہونا چاہیے۔
جیسے جیسے وحی الہی کاControl انسانوں پر بڑھتا چلا جائے گا ۔ سلام سلام بڑھتا چلا جائے گا ۔ حضور رسول اکرم اور اُن کے عظیم ساتھیوں کے ہاتھوں State ‘ کا قیام عمل میں آیا ایک ایسے معاشرے جس کے ہر گوشے سے سلام سلام کی آوازیں بلند سے بلند تر ہوتی چلی جاتی تھیں۔
اُس دور میں ملائیکہ” اور “الروح” Hamogeniously،Synchronously،Integrated ، چل رہے تھے۔
الروح :
قرآن الحكيم ، وحی الہی ، Divine Energy،اس طرح امن اور سلامتی کی فضا عام ہو جائے گی ہیں تک کہ زمین اپنے پروردگار کے “نور ” سےجگمگا کا اٹھے گی۔
یہ ہے اسلام / دین ۔
حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ
The world would THUS be RID OF of
all Darkness and
ULTIMATELY
Earth will Glitter with the most
Wonderous light of its RABB.
(39:69, 83:6)