THE QURAN القران
ALLAH HIMSELF EXPLAINS ABOUT HIS LAST BOOK: KALAM-ALLAH
(Allah says that QURAN IS ENOUGH FOR THE HUMANITY)
قرآن کی کہانی اللہ کی زبانی
اعتراف CONFESSION
قرآن حکیم کو پڑھنے، سمجھنے اور اس کا مفہوم بیان کرتے ہؤے مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ یہ ایک انسانی کوشش ہے اور ظاہر ہے کہ انسان سے خطائیں تو بہرحال ہوتی ہی ہیں۔
غلطیوں سے مکمل طور پر پاک اور شفاف ذات صرف اور صرف اللہ تعالی کی ہے۔
چنانچہ میرے کہنے اور لکھنے میں اگر کوئی بات آپ کو صحیح لگے تو یہ صرف اور صرف اس کتاب عظیم، الحکیم، الفرقان، کلام اللہ کا فیضان اور صدقہ ہے۔
۔میرا پختہ ایمان ہے، محض اعتقادی طور پر نہیں، بلکہ علی وجہ بصیرت، کہ قرآن اپنے اندر مکمل دین اسلام لیئے ہؤے ہے۔
اكملت لكم دينكم اور
تمت كلمت ريك
یہ النور اور کتاب مبین ہے، اور ظاہر ہے “النور” کو دیکھنے (اور سمجھنے) کے لئے کسی خارجی چراغ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالی اپنے کلام کو خود ہی سمجھاتے ہیں۔
کائنات کا ذرہ ذرہ معجزہ ہے اور قرآن بھی ایک معجزہ ہے۔
قران
:
الحق ہے
محفوظ ہے
غلطیوں سے مکمل طور پر پاک، شفاف اور منزہ
غیر متبدل: دنیا کے تمام انسان بھی مل کر اس قرآن کی طرح کی ایک بھی صورت نہیں بنا سکتے۔
اس میں کوئی بات بھی آپس میں ٹکراتی نہیں ہے۔
اس کں ہر بات میں صداقت ہے
یہ مکمل ضابطہء حیات ہے۔
کلام اللہ کو سمجھنے اور بیان کرنے میں اگر کوئی خطا یا غلطی ہوئی ہے تو وہ میری کم علمی، کم فہمی اوز میری تحقیق میں کمی کے باعث ہے۔
قرآن فرض ہے:
اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۭ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاۗءَ بِالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ
(سورة القصص , آیت 85)
MAFHOOM مفہوم :
| Meaning | Word |
|---|---|
|
Made it Incumbent, A binding duty |
فرض |
|
Place to Return A great Destination (Home; Mecca) |
معاد |
یہ ہیں ہمارے وہ غیر متبدل قوانین جو شروع سے اِسی طرح چلے آرہے ہیں اور جنہیں اب‘ اس قرآن میں‘ وضاحت سے بیان کرکے‘ ان کا اتباع تم پر لازم قرار دیا گیا ہے۔
(ان قوانین کے پیش نظر تمہیں‘ اے رسول! ا س سے گھبرانا نہیں چاہئے کہ قریش کے فرعونوں اور قارونوں نے تمہیں اور تمہاری جماعت کو اس قدر تنگ کیا ہے کہ تم حرمِ کعبہ تک کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہو۔ جس اللہ کے قوانین ایسے محکم ہیں)۔ وہ تمہیں پھر اس مقام پر واپس لائے گا (اور نہایت شان وشوکت سے لائے گا۔ لہٰذا‘ تم خود بھی اطمنان اور سکون سے رہو اور اپنی جماعت کی بھی تسکین خاطر کرو‘ اور ان سے کہو کہ) میرے نشوونما دینے والے کا قانونِ مکافات خوب جانتا ہے کہ کون زندگی کی صحیح رَوش پر چل رہا ہے اور کون غلط راستے پر جا رہا ہے۔ (نتائج‘آخر الامر‘ اُسی کے مطابق مرتب ہوں گے)۔
These are Our unalterable Laws which are in force since the beginning, and which have now been explained in detail in the Quran.
Obedience to Quranic Laws/Values is made MANDATORY (Binding DUTY) upon you. (Under the circumstances, O Rasool, you should not be upset that the Pharaohs and Qaroons of Quraish have made your life miserable to the extent that you were forced to migrate from the vicinity of Kaaba (and you have Practically Demonstrated/Established it in the State of MADINA). Allah whose Laws/Values, are so forceful and strong, will assuredly return you to a Great DESTINATION back (in MECCA, and that too with a lot of Dignity, Respect and Grandeur; 21: 10; Al-Anbiya).
(Therefore, maintain your Peace and Tranquility and keep on assuring your Companions that) the Law of Mukafat of Rabb knows fully well who is on the Right Path and rightly Guided, and who obviously is lost in error (and the RESULTS shall be compiled accordingly).
لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(سورة الأنبياء , آیت 10)
(اِن سے کہو کہ‘ اِسی پروگرام کے مطابق‘ اب) ہم نے تمہاری طرف یہ ضابطہ قوانین نازل کیا ہے۔ اِس میں خود تمہارے شرف اور عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ اگر تم ذرا عقل وبصیرت سے کام لے کر سمجھنے کی کوشش کرو (تو یہ حقیقت تم پر واشگاف ہوجائے گی کہ یہ ضابطہ قوانین تمہیں بلندیاں اور سرفرازیاں عطا کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ اس سے اللہ نے کوئی اپنا کام رکا ہوا نہیں ہے)۔
(Tell them) “According to this programme, We have now revealed to you this Code of Laws in which lies the secret of your own Dignity and Magnificence. If only you apply Reason and Intellect to understand this reality, it will become clear to you that this Code of Laws/Values is given to you for your own Exaltation and Eminence. Allah has no personal motives in it.
قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ۭ قُلِ اللّٰهُ شَهِيْدٌۢ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۣوَ اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ اَينَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰي ۭ قُلْ لَّآ اَشْهَدُ ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِيْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ
(سورة الأنعام , آیت 19)
MAFHOOM مفہوم :
BACKGROUND
(Reference to the Context)
-
RESPONSE FROM THOSE WHO:
- Whenever a Message from the Revelation of Allah came to them, they turned away from it.
- They denied the Truth (الحق)
- They denied the Messager
- They asked the Messager, why is not an Angel sent down to you.
- They were told, Travel through the earth and you notice yourself the END of those who denied the Divine Laws.
- They were told that Allah is the SUPREME (His Laws/Values) over His Servants and He is the Wise, Aware (He uses His Authority, according to His Law with Wisdom & Knowledge).
Kept on Doubting and Arguing about Allah & Continued Rejecting the Message and the Messager of Allah:
-
Then the Messenger was asked to tell them:
- What could be the greatest witness? Then tell them Allah is the Witness between me and you.
- This QURAN was REVEALED to me (أوحى إلى هذا القران) so that I may warn you as well as WHOMEVER IT REACHES.
- Do you bear witness that there are other authorities besides Allah? and
- I bear NO such witness.
- He is the ONE ALLAH
- I disown what you associate with Allah.
ان سے پوچھو کہ‘ اِن حقائق کی صداقت کے لئے (جنہیں میں بیان کرتا ہوں) کس کی شہادت سب سے بڑی ہوسکتی ہے؟ میرے اور تمہارے درمیان خود اللہ کی شہادت موجود ہے۔ اُسی کا فیصلہ سب سے بہتر ہو سکتا ہے ۔ا س کی یہ شہادت اور فیصلہ اس قرآن میں موجود ہے جو مجھے بذریعہ وحی دیاگیا ہے تاکہ میں‘ اس کے ذریعے تمہیں‘ اور انہیں بھی جن تک یہ بعد ازاں پہنچے‘ زندگی کی غلط روش کے تباہ نتائج سے آگاہ کروں۔
کیا تم یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی ہے جس کے قوانین کی اطاعت کی جائے؟ ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہی دعویٰ ہے تو میں اس کی صداقت کی شہادت نہیں دے سکتا۔ میرا دعوی تو یہی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور ایسی ہستی نہیں جس کے قانون کی اطاعت کی جائے۔ جنہیں تم اللہ کے اقتدار و اختیار میں شریک ٹھہراتے ہو‘ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ان سے بیزار ہوں۔
وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ڝ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا
(سورة الكهف , آیت 27)
(توحید کی یہی وہ تعلیم تھی جو تمام انبیائے سابقہ کو‘ بذریعہ وحی‘ دی جاتی رہی۔ اور اُسی کو اب‘ اے رسول! تیری طرف وحی کیا گیا ہے ۔ اس لئے ) جو کچھ تجھے‘ اس کتاب اللہ ( هذا القران) میں بذریعہ وحی دیا جاتا ہے ‘ تو (ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے قوانین کے علمبردار بن کر کھڑ ے ہوجاﺅ گے‘ تو جس طرح وہ‘ عازمیں پناہ لینے والے نوجوانوں کا پشت پناہ بن گیا تھا‘ اُسی طرح تمہارا بھی کارساز بن جائے گا۔ لیکن اگر تم نے اُس کے قوانین کو چھوڑ دیا تو تمہیں دنیا میں کہیں پناہ نہیں مل سکے گی بجز اسکے کہ تم انہی قوانین کی پناہ میں آجاو۔
O! Messenger:
Present/Convey to them whatever of THIS BOOK (هذا القران) from your RABB is Revealed to you.
O Rasool, NONE can Alter/Change Allah’s Words (لا مبدل لكلماته). If anyone goes against His Laws/Values, he shall have no refuge other than through His Laws/Values.
EXECUTIVE SUMMARY OF THE QURANIC AYAAT WHICH INCLUDE THE WORDS:
(THIS QURAN
(هذا القران
- It is a CONFIRMATION of the TRUTH of EARLIER REVELATION
- Without a TRACE of doubt, this BOOK is from ALLAH of the WORLD.
- It CONFIRMS the Surviving TRUTHS of the Previous Revelations
- We Revealed this Quran and Explained it in the BEST possible way (احسن القصص)
- Surely, Quran Guides to what is most Upright
- It gives Good news of a Great Reward to those who ACCEPT it and and ACT ACCORDINGLY ( يعملون الصاللحات), and for the BENEFIT OF HUMANITY.
- Allah has EXPLAINED in Quran things in various ways/facets for BETTER UNDERSTANDING.
- If ALL Mankind gets together to produce the like of this Quran, they will not be able to produce as the like of Quran, no matter how much help they give one another.
- However, most people remain Ungrateful by REJECTING such a CLEAR GUIDANCE
- Quran uses TASREEF, from various Vantage points to explain the Quran for the Benefit of HUMANITY.
- And the Messager will say “O My Allah! these are my People who had abandoned this Quran as something to be discarded:
- The Quran explained to the Children of Israel wherein they Differ
- Allah gives Numerous Examples in Quran for the benefit of the Mankind, but if you come EVEN with a MIRACLE, the OPPONENTS OF TRUTH will say, ” You are only FALSIFIERS”
- Allah has explained in this Qurant to Mankind with ALL kinds of EXAMPLES so that they might REFLECT and UNDERSTAND.
- Allah CITES EXAMPLES for Mankind in this Quran so that they might THINK (لعلهم يتفكرون)
- Those who ADAMANTLY deny the TRUTH say, “Do not LISTEN to this Quran but DROWN it in UPROAR so that you might dominate.
و قال الرسول يا رب ان قومى اثخذوا هذا القران مهجورا
The COMPLAINT OF OUR BELOVED NABI/RASOOL TO ALLAH.
VERY IMPORTANT
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ
(سورة فصلت , آیت 26)
اور جو لوگ اللہ کے قانون سے انکار اور سرکشی برتتے ہیں‘ وہ اپنے لوگوں کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ دیکھنا! تم کہیں قرآن کو نہ سن لینا (اس سے تمہارے عقائد خراب ہوجائیں گے) بلکہ جہاں دیکھو کہ کوئی شخص قرآن کی بات پیش کرتا ہے‘ وہاں شور مچا دو۔ کائیں کائیں کرنے لگ جاﺅ۔ اس طرح کچھ امید ہوسکتی ہے کہ تم ان لوگوں پر غالب آسکو۔ (ورنہ یہ ناممکن ہے کہ لوگ قرآن کی باتیں سنیں اور اس سے متاثر نہ ہوں)۔
People who rebel against and deny the Divine Law, continue warning their people, “Beware! Do not ever listen to Quran (as it will spoil your beliefs). Rather, if you see someone presenting the Quran make a lot of noise so that nobody could hear/understand them. By doing so you may overpower them.” (Otherwise people who listen to the Quran would surely be influenced.)
TEFERENCES OF QURANIC AYAAT WHERE ALLAH USED WORDS
هذا القران
10: 37 (Yunus)
12: 3 (Yusuf)
17: 9, 41, 88 & 89 (Bani Israel)
18: 54 (Al-Kahf)
25: 30 (Al-Furqan)
27: 76 (An-Naml)
30: 58 (Ar-Room)
34: 31 (Saba)
39: 27 (Az-Zumar)
41: 26 (Fussilat)
43: 31 (Az-Zukhruf)
59: 21 (Al-Hashr)
ALLAH’S LAWS/VALUES ARE PERMANENT AND UNALTERABLE/CHNGELESS
BACKGROUND
انسان صرف اپنی عقل کی بنا پر “الحق” اور “الباطل” کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے اسے بہر حال اللہ کی طرف سے مستقل طور پر غیر متبدل قوانین کی ضرورت رہتی ہے۔ اللہ نے اپنے یہ قوانین، اصول اور مستقل اقدار “الهدى” اور “الفرقان” (القران) کی شکل میں ہمیں دے دئیے ہیں۔ پہلی تمام قوموں کے نبیوں/رسالوں کو بھی یہی قوانین دئیے جاتے رہے ہیں ۔
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ
(سورة الأنعام , آیت 114)
ان سے پوچھو کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اللہ کو چھوڑ کر‘ کسی اور کے قانون کے مطابق تمہارے معاملات کے فیصلے کرنے لگ جاﺅں‘ حالانکہ اُس نے تمہاری طرف ایک واضح اور نکھرا ہوا ضابطہ قوانین بھیج دیا ہے۔ جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی ہے (یعنی جماعت ِمومنین کے) ارباب علم وبصیرت, وہ اس حقیقت کو پا گئے ہیں کہ یہ فی الواقعہ تیرے نشوونما دینے والے کی طرف سے‘ حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے۔ اِس لئے‘ ان مخالفین کے ساتھ جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔
O Rasool ask them: “Do you want that I should seek an authority/judge/ruler other than Allah when He has sent down for you the Book which States Everything Clearly, well Expounded and in Detail. Those who have accepted this Book have understood clearly that it has been Revealed by Allah and is based upon the Truth. There is no need to dispute with them. And be not among those who argue for the sake of argument.
:MAFHOOM مفہوم
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
(سورة الأنعام , آیت 115)
اِس قرآن میں‘ اللہ کا ضابطہ قوانین‘ تمام صداقتوں کو اپنے اندر لئے‘ اور عدل و توازن کے تقاضون کو پورا کرتے ہوئے‘ مکمل ہو چکا ہے۔ اب اِن اللہ کے قوانین میں کوئی تغیر و تبدّل کرنے والا نہیں….یعنی‘ یہ مکمل ایسا ہے کہ اِس میں اضافے کی گنجائش نہیں۔ا ور محکم ایسا کہ اس میں کسی تغیر وتبدل کی ضرورت نہیں۔ (اسی لئے اب کسی نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور اللہ نے خود اس کی حفاظت کا ذ مّہ لے لیا ہے ۔ (15 :9 ؛ الحجر) ۔ یہ اِس لئے کہ یہ اُس آللہ کا ضابطہ قوانین ہے جو سب کچھ سنتا‘ اور ہر بات کا علم رکھتا ہے ۔(اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ انسانی راہ نمائی کے لئے جو کچھ دیا جانا ضروری تھا‘ اُس میں سے کوئی بات لا علمی کی بنا پر رہ گئی ہو)۔
Allah’s Laws based on Truth and Justice have been set forth in this Book in a COMPLETE form. None has the Authority to make any CHANGE in these Laws. This is because this Book has been sent down by Allah who Hears and Knows Everything.
13: 11 (Ar-Ra’d)
……ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم ۔۔۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
……Most CERTAINLY, Allah does not change the Condition of a Nation/Quom until they CHANGE themselves.
10: 15 (Yunus)
NABI DECLARED:
- HE CANNOT MAKE CHANGES IN QURAN,
- I only follow what is REVEALED to me
- If I disobey my Allah, I fear the Retribution of a Awesome Day
وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْهُ ۭ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ
(سورة يونس , آیت 15)
جب ان لوگوں کے سامنے ہمارے واضح قوانین پیش کئے جاتے ہیں‘ تو جو لوگ ہمارے قانون مکافات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے‘ وہ کہتے ہیں کہ یا تو تم‘ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسرا قرآن لاﺅ‘ اور یا پھر اس میں ہی کچھ ردوبدل کر دو۔ (یعنی وہ اللہ کے اٹل اور غیر متبدل قوانین کو اپنی منشاءاور مفاد کے مطابق تبدیل کرانا چاہتے ہیں ) ان سے کہہ دو کہ یہ چیز میرے حطئہ اختیار سے باہر ہے کہ میں اپنی طرف سے کسی قسم کا ردوبدل کر سکوں۔ میرا مقصد صرف اس وحی کی پیروی کرنا ہے جو میری طرف نازل ہوتی ہے ۔ اگر میں اپنے نشوونما دینے والے کے احکام سے سرتابی کروں‘ تو اس کا قانونِ مکافات مجھے بھی نہیں چھوڑے گا۔ اس لئے میں اس کی گرفت سے بہت ڈرتا ہوں۔ اس کی سزا بڑی سخت ہوا کرتی ہے۔
O Rasool! when Our verses are recited to these people those who do not believe in the Law of Mukaf’at say: “Bring a Quran different from this or alter some of its provisions.” Say: “It is not for me to make ANY CHANGES therein according to my wishes. I follow only that which is REVEALED to me. Indeed, I fear the chastisement of the Day of Reckoning if I go against my Rabb”.
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
6: 34 (Al-An’aam)
8: 53 (Al-An’faal)
10: 64 (Yunus)
30: 36 (Ar-Room)
33: 38 & 62 (Al-Ahzab)
35: 43 (Al-Fatir)
40: 85 (Al-Mu’min)
48: 23 (Al-Fath)
THIS IS ALLAH’S LAWS THAT HAS BEEN IN FORCE SINCE OLDER TIMES. AND YOU WILL NEVER FIND ANY CHANGE IN ALLAH’S LAWS/VALUES.
QURAN ENCOMPASSES COMPLETE DEEN/ISLAM WITHIN IT FOR THE GUIDANCE OF THE WHOLE HUMANITY FOR ALL THE TIMES TO COME
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ……
Remember that the System of Life Approved by Allah is only Islam.
| Meaning | Word |
|---|---|
|
The System of Life The Divinely Prescribed by Allah Way of Life |
دین Deen |
|
Submission to Allah Submission to Divine Laws/Values |
الإسلام Al-Islam |
One of His ATTRIBUTES is AL-MU’MIN المؤمن The One who Guarantees PEACE).
…..الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا….
MAFHOOM مفہوم
۔۔۔۔۔۔ آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیئے اسلام کو نظام حیات کے طور پر پسند کیا۔۔۔۔۔۔۔ (جس کے ساتھ کسی اور نظام حیات کا تصور نہیں کیا جا سکتا)۔
……..this Day I have COMPLETED My favor upon you, and Chosen for you Al-Islam as the DEEN; System of Life. Allah has bestowed His full Blessings upon you and Islam has been assigned for you, as your DEEN which We have PERFECTED/COMPLETED for you…..
6: 115 (Al-An’aam)
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا……
MAFHOOM مفہوم
اِس قرآن میں‘ اللہ کا ضابطہ قوانین‘ تمام صداقتوں کو اپنے اندر لئے‘ اور عدل و توازن کے تقاضون کو پورا کرتے ہوئے‘ مکمل ہو چکا ہے۔ یہ مکمل ایسا ہے کہ اِس میں اضافے کی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس اللہ کی کتاب ہے (کلام ہے) جو سنتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ (اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ انسانی راہ نمائی کے لئے جو کچھ دیا جانا ضروری تھا‘ اُس میں سے کوئی بات لا علمی کی بنا پر رہ گئی ہو)۔
Allah’s Laws/Values based on the Truth and Justice have been set forth in this Book in a COMPLETE form. (This is because this Book has been sent down by Allah who Hears and Knows Everything).
3: 85 (Aa’l-e-Imran)
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
Whoever seeks as a Way of Life OTHER than ISLAM (Submission to Allah), it will never be accepted from Him, and in the life Hereafter, he will be among those who have completely lost their investments.
ALLAH GUARANTEES PRESERVATION OF QURAN (HIS LAWS, PRINCIPLES AND PERMANENT VALUES) FOR ALL THE TIMES TO COME
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ
(سورة الحجر , آیت 9)
MAFHOOM مفہوم
اس قرآن کو ہم نے نازل کیا ہے (اس لئے اس کا ہر وعدہ سچا ہو کر رہے گا۔ اور چونکہ اِسے ‘ تمام نوعِ انسان کے لئے ‘ ہمیشہ کے لئے “ضابطہ ہدایت بن کر رہنا ہے” اس لئے اسے ہر طرح سے مکمل کر دیا گیا ہے۔ اس میں کسی ردوبدل کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس لئے ہم خود اس کی حفاظت کریں گے ۔
اسے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکے گی۔
There is no doubt that it is We, Ourselves, who have bestowed this Quran step by step and it is We who shall see that it ALWAYS REMAINS PRESERVED.
NO POWER ON EARTH CAN DESTROY IT.
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
(سورة الأنعام , آیت 115)
اِس قرآن میں‘ اللہ کا ضابطہ قوانین‘ تمام صداقتوں کو اپنے اندر لئے‘ اور عدل وتوازن کے تقاضون کو پورا کرتے ہوئے‘ مکمل ہو چکا ہے۔ اب اِن اللہ کے قوانین میں کوئی تغیر وتبدّل کرنے والا نہیں….یعنی‘ یہ مکمل ایسا ہے کہ اِس میں اضافے کی گنجائش نہیں۔ا ور محکم ایسا کہ اس میں کسی تغیر وتبدل کی ضرورت نہیں ۔ اور اللہ نے خود اس کی حفاظت کا ذمّہ لے لیا ہے ۔ یہ اِس لئے کہ یہ اُس آللہ کا ضابطہ قوانین ہے جو سب کچھ سنتا‘ اور ہر بات کا علم رکھتا ہے ۔(اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ انسانی راہ نمائی کے لئے جو کچھ دیا جانا ضروری تھا‘ اُس میں سے کوئی بات لا علمی کی بنا پر رہ گئی ہو)۔
Allah’s laws based on Truth and Justice have been set forth in this Book in a COMPLETE form. None has the authority to make ANY CHANGE in these Laws/Values. This is because this Book has been sent down by Allah who Hears and Knows Everything.
وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا
(سورة الكهف , آیت 27)
(توحید کی یہی وہ تعلیم تھی جو تمام انبیائے سابقہ کو‘ بذریعہ وحی‘ دی جاتی رہی۔ اور اُسی کو اب‘ اے رسول! تیری طرف وحی کیا گیا ہے ۔ اس لئے) جو کچھ تجھے‘ اس اللہ کی کتاب (قرآن) میں بذریعہ وحی دیا جاتا ہے۔ تو اِسے لوگوں کے سامنے پیش کرتا جا۔ یہ‘ اللہ کے غیر متبدل‘ ابدی قوانین ہیں جنہیں کوئی بدل نہیں سکتا۔ (ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے قوانین کے علمبردار بن کر کھڑ ے ہوجاﺅ گے‘ تو جس طرح وہ‘ عازمیں پناہ لینے والے نوجوانوں کا پشت پناہ بن گیا تھا‘ اُسی طرح تمہارا بھی کارساز بن جائے گا۔ لیکن اگر تم نے اُس کے قوانین کو چھوڑ دیا تو تمہیں دنیا میں کہیں پناہ نہیں مل سکے گی بجز اسکے کہ تم پھر انہی قوانین کی پناہ میں آجاو۔
Present to them whatever is revealed to you O Rasool, NONE shall CHANGE Allah’s words. If anyone goes against His laws, He shall have no refuge.
سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا
(سورة الأحزاب , آیت 62)
ایسے لوگوں سے اس قسم کا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ اللہ کا قانون شروع ہی سے ایسا چلا آرہا ہے (کہ شریفوں کو تنگ کرنے والے‘اور معاشرہ میں فساد برپا کرنے والے‘ اگر اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہ آئیں‘ تو انہیں سخت سزا دی جائے)۔ اور تو‘ اللہ کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پائے گا۔
Such treatment for people of this kind is not something new. The Divine Laws/Values has always been extending such treatment (for severe punishment should be given to those who do not desist from teasing decent people and disturbing the society). And you will not find ANY CHANGE in the Way of the Divine Law/Values. .
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
5: 48 (Al-Ma’eedah)
6: 19, 34 & 116 (Al-An’aam)
10: 64 (Yunus)
17: 77 (Bani Israel)
22: 52 (Al-Hajj)
33: 38 (Al-Ahzab)
35: 43 (Al-Fatir)
40: 85 (Al-Mu’min)
48: 23 (Al-Fath)
ADOPT ALLAH’S SYSTEM OF LIFE; DEEN/ISLAM IN TOTALITY
اے ایمان والو! تم دین/اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ ۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ
(سورة البقرة , آیت 208)
MAFHOOM مفہوم
لہٰذا‘ اے جماعت ِمومنین! تم اِس اللہ کے نظامِ میں‘ جو امن وسلامتی کا ضامن ہے‘ اجتماعی طور پر‘ پورے کے پورے ‘ داخل ہوجاﺅ اور چند قدم چل کر رُک نہ جاﺅ‘ بلکہ اس کی آخری حد تک پہنچو۔ تم اپنے شیطان: (حیوانی سطح زندگی) کے جذبات کے پیچھے نہ لگ جاﺅ جنہیں اگر بے باک چھوڑ دیا جائے تو وہ انسان کو بلند اقدار کی سطح تک آنے نہیں دیتے۔ یہ رَوِش، انسان کی سخت دشمن ہے۔ اس سے بچنا۔ ۔
O Jama’at-ul-Momineen! you should adopt Allah’s System of Life in it’s Eentirety and also continue your struggle until it is accomplished FULLY.
Do not follow in the footsteps of Shaitan, for he is your Avowed Enemy.
In other words, Enter all of you COLLECTIVELY into the Prescribed Way of Life that Guarantees PEACE, SECURITY and TRANQUILITY.
SHAITAN شيطان
- The Selfish Desires
- Alieanates man from the CREATOR
- Divides Humanity in Sects
- Drive Wedge between people
- The Steaying Ego
- Emotions that overpower Permanent Values
- Extrinsic or Intrinsic EVIL Prompting
- Negative peer pressure
- Violent Emotions
- Self Glorification
- Anything distant from Goodness &Progress
- False Pride
- A Rumor Monger
- Fiery Emotions/Temperament
- Slanderer
- A hinderer of Good
- He who spreads corruption and DISORDER on Earth
- Anyone who impels others into violating Divine Commands
- Bad Companionship
- One who plots against others.
…………..افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
2: 85 (Al-Baqarah)
لیکن تم ہو کہ ایسے محکم قول واقرار کے بعد‘ باہمی خون ریزیاں کرتے ہو اور‘ اپنے غریب بھائیوں کو اُن کے گھروں سے نکال باہر کرتے ہو۔ اور بجائے اِس کے کہ تمہاری سوسائٹی‘اِن مجرمین کے خلاف‘ کوئی کارروائی کرے‘ تم اُلٹے اِن غریبوں کے خلاف ظلم و استبداد میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو…. کہیں کمزوروں کو کمزور تر بنانے سے اور کہیں اِن سرکشوں کی حوصلہ افزائی کرنے سے…. اور ستم ظریفی یہ کہ جب‘ اِن گھروں سے نکالے ہوئے غریبوں کو دوسرے لوگ پکڑ کر لے جاتے ہیں‘ تو تم بڑے خدا ترس بنتے ہوئے آگے بڑھتے ہو‘ اور اُن کا زرِ فدیہ ادا کرکے اُنہیں چھڑا لیتے ہو‘ اور اِس سے سمجھتے یہ ہو کہ تم نے بڑا نیکی کا کام کیا! حالانکہ خود اِن لوگوں کو اُنکے گھروں سے نکالنا وہ سنگین جرم تھا جس سے تمہیں منع کیا گیا تھا۔ سو تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ کے ضابط کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس کے دوسرے حصے سے اِنکار کرتے ہو۔ (حالانکہ جس طرح انسانی زندگی کے حصے بخرے نہیں کئے جا سکتے‘ اُسی طرح اِس اللہ کے ضابطہ کو بھی ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے مانا جائیگا‘ تو سب کا سب مانا جائے گا۔ اور اِنکار کیا جائے گا تو پورے کے پورے سے اِنکار کیا جائے گا۔ جس طرح جسم کے دو ٹکڑے کر دینے سے کوئی ٹکڑا بھی زندہ نہیں رہ سکتا‘ اُسی طرح‘ جو قوم اللہ کے ضابطہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے‘ اور جو حصہ مفید مطلب ہو اُس پر عمل کرتی ہے اور دوسرے کو چھوڑ دیتی ہے‘ تو) اِس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ او ر ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسی قوم کے حال کی زندگی بھی ذلت اور رسوائی کی زندگی ہو‘ اور مستقبل کی زندگی بھی اندوہناک تباہیوں سے لبریز۔ دُنیا میں ذِلت اور آخرت میں بھی رُسوائی۔ اللہ کے ضابطہ سے اِس قسم کا برتاﺅ کرنے کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ یادرکھو! آللہ کے قانونِ مکافات کی نگاہوں سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔
These were the pledges you made but you continued shedding each other’s blood and turning the weak amongst you out of their homes. Your society, instead of taking the criminals to task, encouraged them to evil acts. When the homeless people were taken captive you secured their release and thought that by paying the ransom you had done a very pious deed, whereas the expelling of these people from their homes was a heinous crime which you had been forbidden to commit. Such is your state of mind that you accept one part of Allah’s Code of Laws and deny another. When people make it a way of life to follow that part of the Divine Code which they think serves their interest, and forsake the rest, they are bound to suffer failure and disgrace in this world and commitment to most grievous suffering in the Hereafter. This is the inevitable result of fragmenting Allah’s Code: it should be accepted or rejected in toto. And also bear in mind that according to the Law of Mukaf’at, no action of yours remains hidden.
آخرت پر ایمان کی اہمیت
IMPORTANCE OF E’MAN IN THE HEREAFTER (THE FINAL ACCOUNTABILITY)
OUR E’MAN ON ALLAH, THE UNSEEN, HIS MESSENGERS, ANGELS, HIS BOOKS (DIVINE LAWS/VALUES) ARE “JUST MEANINGLESS” WITHOUT BELIEVING, WITH CONVICTION, IN THE ACCOUNTABILITY, IN THE COURT OF ALLAH (QANOON-E-MUKAFAAT-E- AMAL), IN THIS WORLD AS WELL AS IN THE HEREAFTER
ہمارا اللہ پر ایمان, غیب پر، رسولوں پر، ملائیکہ پر اور اللہ کی کتابوں پر ایمان بالکل بے معنی ہو جاتا ہے جب تک ہم اس دنیا اور آخرت کی زندگی میں, اللہ کی عدالت میں (قانون مكافآت عمل), جوابدہی کو دل کی پوری آمادگی سے تسلیم نہیں کرتے۔
…… ۭ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
(سورة البقرة , آیت 200)
……. دین کا منتہیٰ‘ دنیاوی مفاد کا حصول ہے‘ اور بس۔ بالکل نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لو کہ جو لوگ محض دنیاوی مفاد کو منتہائے نگاہ قرار دے لیتے ہیں‘ اُنہیں یہ مفاد تو حاصل ہوجاتے ہیں‘ لیکن مستقبل کی خوشگواریوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
People who consider the worldly gains an end in itself do get such benefits in this world, but have no share, whatsoever, in the Hereafter.
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(سورة البقرة , آیت 201)
اِن کے برعکس‘ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی طلب و آرزو یہ ہوتی ہے کہ اُنہیں دُنیاوی زندگی کی خوشگواریاں بھی حاصل ہوں اور اُخروی زندگی کی خوشگواریاں بھی۔ اور وہ ہر قسم کی تباہیوں سے محفوظ رہیں۔
You will find two kinds of people in the world: the first kind’s sole aim of life is to find prosperity in this world and they do not think/believe about the Hereafter; the other kind, however, yearn not only for bliss in this world but also to be protected from disaster in the Hereafter. Both kinds shall have what they have worked for. According to Allah’s Law of Mukaf’at, each human action produces its result simultaneously although the latter may not be perceptible for some time.
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا
(سورة بنی اسراءیل , آیت 18)
(اس سے تمہارے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ جب اللہ کا قانونِ مکافات اس قدر محکم گیر ہے‘ تو پھر وہ قومیں ‘ جو نہ مستقل اقدار کو تسلیم کرتی ہیں اور نہ ہی مستقبل کی زندگی پر ایمان رکھتی ہیں‘وہ مادی ترقی کس طرح کرتی جاتی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ) ہمارا قانون یہ ہے کہ جو کوئی‘ اِس دنیا میں‘ طبیعی مفادِ عاجلہ چاہتا ہے…. اور اس کے لئے طبیعی قوانین کے مطابق کوشِش کرتا ہے…. ہم اُسے اپنے قانونِ مشیت کے مطابق ‘ جسے ہم نے اپنے اختیار و رادہ سے ایسا بنایا ہے‘ مادی مفاد دیدیتے ہیں۔ (جو کسان‘ ہمارے قوانین طبیعی کے مطابق‘ محنت کرکے فصل بوتا ہے‘ اُسے اُس کی محنت کا پھل مل جاتا ہے۔ اِس میں کافر و مومن کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ لیکن اِس کے بعد) مستقبل کی زندگی میں‘ اُس قوم کے لئے‘ تباہی کا جہنم ہوتا ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکاری ہوئی داخل ہوجاتی ہے
وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا
(سورة بنی اسراءیل , آیت 19)
اس کے برعکس‘ جو قوم (مفادِ عاجلہ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی خوشگواریاں بھی چاہتی ہے‘ اور اس کے لئے ایسی کوشش کرتی ہے‘ جیسا کوشش کرنے کا حق ہے۔ اور مستقل اقدار پر یقین کامل رکھتی ہے۔تو یہ لوگ ہیں جن کی کوششیں‘ حال اور مستقبل دونوں میں‘ بھرپور نتائج کی حامل ہوتی ہیں۔
كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا
(سورة بنی اسراءیل , آیت 20)
ہم اس طرح دونوں گروہوں کو (یعنی صرف مفاد عاجلہ طلب کرنے والوں‘ اور مفادِ عاجلہ کے ساتھ مستقبل کی خوشگواریاں چاہنے والوں کو)‘ اپنے طبیعی قوانین کی رُو سے‘ ان کی کوششوں کے مطابق‘ آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں‘ اور تیرے نشوونما دینے والے کا عطا فرمودہ‘ سامانِ رزق ان سب کے لئے یکساں طور پر کھلا رہتا ہے۔ اُس کے راستے میں‘ کسی کے لئے بند نہیں لگائے جاتے۔ (جو چیز قانون طبیعی کے مطابق حاصل ہوتی ہے‘ وہ ہرابر اس شخص کو حاصل ہوسکتی ہے جو اُس قانون کے مطابق‘ اُس کے حصول کے لئے کوشِش کرتا ہے۔ زندگی کی اِس دوڑ میں‘ کافر و مومن‘ دونوں کے لئے یکساں طور پر میدان کھلا رہتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ کافر کو‘ اُس کی کوشش کے باوجود‘ پکڑ کر پیچھے دھکیل دیاجائے ‘ اور مومن کو‘ خواہ وہ کوشش نہ ہی کرے‘ آگے بڑھا دیاجائے۔
17: 18 to 20 (Bani Israel)
There are two categories of people – those who believe only in this world and those who believe in this world as well as in the next. Both make efforts to secure the bounties of this world which they will have in proportion to their efforts. Allah helps both of them and does not stand in the way of either of them. The fruits of the labour of those who believe only in this world will be confined to this world and in the hereafter they will be doomed to Jahannam where they will be condemned and forsaken. But those who believe in the hereafter also, will be recompensed for their efforts both in this world and the next.
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
2: 4 & 86 (Al-Baqarah)
3: 145 (Aa’l-e-Imran)
4: 134 (An-Nisaa)
6: 32 (Al-An’aam)
7: 147 (Al-Aa’raaf)
11: 15 & 16 (Hud)
42: 20 (Ash-Shura)
ALLAH TELLS US ABOUT THE CLAIM OF JEWS AND CHRISTIANS
What is that CLAIM?
وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ
(سورة البقرة , آیت 111)
MAFHOOM مفہوم
ان (اہل کتاب) کا دعویٰ ہے کہ جنت بس صرف یہود ونصاریٰ کے لئے مخصوص ہو چکی ہے‘ اِن کے علاوہ‘ اِس میں کسی اور کا داخلہ نہیں ہو سکتا۔۔
اللہ نے کہا کہ:
“یہ اِن کی خوش فہمی ہے جو اِن کے فریب نفس اور جہالت نے پیدا کررکھی ہے” ۔
پھر اللہ نے اپنے نبی سے کہا:
اِن سے کہو کہ‘ ذرا جذبات سے الگ ہٹ کر‘ علم وبصیرت کی رو سے بات کریں‘ اور اگر یہ اپنے اِس دعوے میں سچے ہیں‘ تو اِس کی تائید میں دلائل و براہین پیش کریں حقائق کے فیصلے خوش آیند جذبات کی رُو سے نہیں ہوا کرتے‘ علم و برہان سے ہوتے ہیں۔
The Ahl-ul-Kit’ab i.e. Jews and Christian, claim that paradise is reserved for them. This is their wishful thinking. Tell them to substantiate their claims in rational terms, if what they say in true.
Then Allah tells us their Statement:
وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا ۭ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
(سورة البقرة , آیت 135)
یہ کہتے ہیں کہ تمہیں ہدایت کی راہ اُسی صورت میں مل سکتی ہے کہ تم یہودیوں یا عیسائیوں کا مسلک اختیار کرو۔
پھر اللہ اپنے نبی سے کہتے ہیں:
اِن سے کہو کہ
تم مسلک ِابراہیمی علیہ السلام کی طرف دعوت کیوں نہیں دیتے ؟ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تا نہ عیسائی ۔وہ خالص اللہ کے دین کا متبع تھا‘ اور اِس میں کسی غیر اللہ تصور کو شریک نہیں کرتا تھا۔ (اِس کے برعکس تم ہو کہ‘ تم نے کہیں انسانوں کی خود ساختہ شریعت کو اللہ کے احکام قرار دے رکھا ہے‘ اور کہیں اللہ کے رسول کو خود خدا بنا دیا ہے !)۔
They (Jews and Christians) say: “You can be considered to be following the right path only if you follow our way.” Tell them: “Why do you not invite people to follow Abraham’s way? Abraham was neither a Jew nor a Christian. He was a true follower of the Divinely Ordained Path and did not associate anyone with Allah.”
مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
(سورة آل عمران , آیت 67)
یاد رکھو! ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھانہ نصرانی۔ یہ تمہاری خود ساختہ نسبتیں ہیں۔ وہ خالص مسلم تھا۔ وہ دین میں گروہ بندیاں پیدا کرنے والے مشرکین میں سے نہیں تھا ۔ یہ کچھ تم ہی کرتے ہو۔
Ask these Ahl-ul-Kit’ab, “Why do you dispute whether Abraham followed the Torah or the Bible? You do not even know that these Books were revealed after his time. You used to argue in matters of which you had some knowledge, but how strange that now you argue about matters of which you have no knowledge. It is only Allah Who knows and you do not know! Take note that Abraham was neither a Jew nor a Christian. He was a true Muslim. He obeyed Allah exclusively and did not associate anyone with Him.”
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ
(سورة المائدة , آیت 51)
اے جماعت ِمومنین! تمہارے سامنے یہود اور نصاریٰ کی حقیقت بھی آگئی‘ اور یہ بھی کہ تم کس نظام کے قیام کیلئے کھڑے کئے گئے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ اُن کے مطمع نگاہ اور تمہارے مقصد زندگی میں کس قدر بنیادی فرق ہے۔ لہٰذا‘ تم کبھی انہیں اپنا دوست اور چارہ ساز نہ بنانا۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ یہ باہمی‘ ایک دوسرے کے دوست اور چارہ ساز بن جائیں‘ لیکن تمہارے دِلی دوست کبھی نہیں ہو سکتے۔ اس وضاحت کے بعد بھی‘ تم میں سے جو شخص اِنہیں اپنا رفیق اوردوست بنا ئیگا تو اس کا شمار‘ انہی میں ہو گا۔ اس لئے کہ جو لوگ یوں دیدہ دانستہ‘ غلط راستے اختیار کر لیں‘ وہ صحیح راستے پر کیسے ہو سکتے ہیں؟
The differences between the Momineen, on the one hand, and Jews and Christians, on the other, have become clear. Therefore, O Jama’at-ul-Momineen do not take them as friends. Despite the mutual enmity between Jews and Christians, they are one in their opposition to you. Mark this: Whosoever takes them as friends will be reckoned as one of them. Certainly the z’alimeen do not benefit from Allah’s Guidance.
NOTE: This Ayat points to taking Jews & Christians as allies on a National Scale and not to Individual Friendship.
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ
(سورة المائدة , آیت 82)
اے رسول! تم یہود اور مشرکین کو جماعت مومنین کے شدید ترین دشمن پاﺅ گے۔ ان کے برعکس‘ جو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں‘ تو دیکھے گا کہ وہ تمہاری جماعت کے ساتھ دوستی میں قریب تر ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں منکسر المزاج عالم اور تارک الدنیا راہب ہیں جن کی طبیعت میں تکبر اور سرکشی نہیں ہوتی۔
O Rasool! of all people you will find the Jews and the Mushrikeen the most bitter in their enmity towards the Believers. On the other hand, you will see those who call themselves the Nazarenes nearest in social relationship to the believers.[*1] This is so because amongst them there are priests and monks who are not given to arrogance. (Their followers naturally imbibe their character.)
*1- There is a difference between making allies and contracting social relationships. The Quran has prohibited making allies with both Jews and Christians.
وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ
(سورة المائدة , آیت 18)
ان‘ یہودیوں نصاریٰ دونوں کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور اس کی چہیتی اولاد ہیں۔ ان سے کہو کہ اگر ایسا ہی ہے تو اللہ تمہیں تمہارے جرموں کی سزا کیوں دیتا رہتا ہے (جس کے تذکرے سے تمہاری کتابیں بھری پڑی ہیں)۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بھی (اور انسانوں کی طرح) اللہ کے پیداکردہ انسان ہو اور جزا وسزا کا جو قانون دوسروں پر حاوی ہے‘ اسی کا اطلاق تم پر بھی ہوتا ہے۔ اِس میں کسی کے چہیتے اور کسی کے سوتیلے ہونے کا سوال ہی نہیں۔ جو قوم بھی‘ اللہ کےقوانین کا اتباع کرے گی زندگی کی تباہیوں سے محفوظ رہے گی۔ جو ان کے خلاف چلے گی‘ تباہ و برباد ہوجائے گی۔ دونوں راستے کھلے ہیں۔جونسا راستہ جس کا جی چاہے اختیار کر لے۔ یہ کچھ اسی قانون کے مطابق ہوتا ہے جس کی رُو سے کائنات کا ایسا عظیم القدر سلسلہ اس حسن وخوبی سے چل رہا ہے‘ اور اس کا ہر قدم اس منزل کی طرف اٹھ رہا ےہ جو خدا نے اس کے لئے مقرر کررکھی ہے۔
Jews and Christians say, “We are the beloved children of Allah (and notwithstanding what we do, paradise belongs to us).” Ask them O Rasool: “Why then does Allah punish you from time to time for your wrong-doings?” (Even your scriptures are replete with accounts of your shortcomings and your sufferings.) You are not the beloved children of Allah. You are like others whom He has created. Both forgiveness and punishment are determined by Allah’s Law of Mukaf’at. Allah’s Authority dominates the entire universe. All human beings are accountable to Him and will be judged according to the Law of Mukaf’at.
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
30: 31 & 32 (Ar-Room)
2: 113 & 120 (Al-Baqarah)
5: 64 (Al-Ma’eedah)
9: 30 to 32 (At-Taubah)
….و لا خوف عليهم ولا هم يحزنون
HOW TO PROTECT OURSELVES FROM FEAR AND DEPRESSION/DESPAIR?
اللہ تعالی ہمیں قرآن میں بتاتے ہیں کہ ہم ایسا کیا کریں کہ ہم خارجی خوف اور اندرونی رنج و غم اور مایوسی سے محفوظ رہیں۔
ALLAH GUIDES US IN QURAN ABOUT THE MEASURES WE NEED TO TAKE TO BE PROTECTED FROM EXTRINSIC AND INTRINSIC FEARS.
….فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ
(سورة البقرة , آیت 38)
جب انسان غلطیاں کرتا ہے تو ان اعمال کے تخریبی نتائج دیکھ کر خوف و رنج اور مایوسی میں مبتلا ہو جاتا یے۔
اللہ تعالی کی عظیم رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اس کیفیت سے نکلنے کا راستہ بھی بتا دیا۔
“غلط راستے پر چلنے کے نتائج دیکھ کر تم پر مایوسی چھا جائے
تو اس سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ ہماری طرف سے‘ ہمارے رسول کی معرفت تمہاری طرف راہ نمائی آ کئی ہے اور جو لوگ اُس راہ نمائی کے مطابق زندگی بسر کریں گے وہ ہر قسم کے خوف و ہراس سے محفوظ رہیں گے
We shall send you Our Guidance through Our Rusul, and those who will FRAME their lives in accordance with Divine Laws/Values will suffer no fear and sorrow. On the other hand, those who reject Our Guidance would lead a life of constant torment in this world and in the Hereafter.
THE WAYS TO PROTECT OURSELVES FROM FEAR AND DEPRESSION/DESPAIR…….:
و لا خوف عليهم ولا هم يحزنون
- Whoever Believes in Allah & the Day of the Final Accountability, and does AMAL-E-SALEH عمل صالحا, their reward is with Allah.
- Whoever submits his whole being to Allah and SERVE for the betterment of other human beings and the Society, his reward rests with Allah.
- Those who spend their wealth according to Allah’s Directions, and afterward do not follow their giving with reminders of their generosity or injure the feelings of the recipient, their reward is with their Allah.
- Those who spend their wealth on the needy by night and by day, secretly or publicly, their reward is with their Allah.
- Those who believe in Divine Laws/Values, do works beneficial to the Society, and strive to ESTABLISH Divine Systems; NIZAM-E-SALA’AT and NIZAM-E-ZAKAAT (Economic Order), their reward is with their Allah.
- Quran is for the Entire Humanity, and a Beacon of Light and a beautiful Instructions/enlightenment for those who seek to Journey through life in Honor and Security.
- They are happy in the blessings that Allah has granted them.
- Those who are not saddened by those who RUSH to Rejection of Divine Guidance.
- Those who attain Belief, mend their ways and work for the Society equity fulfilling the needs of others.
- Those who live Aright.
- Friends of Allah (who CLOSELY follow Divine Values/Laws)
- Those who say, “Our Rabb is Allah and then REMAIN STEADFASTLY UPRIGHT, upon then Descend Angels.giving Glad tidings of Jannat that was Promised”.
- Allah’s Servants (عباد)
REFERENCES FROM QURAN
(TASREEF-E-AYA’AT)
2: 38, 62, 112, 262, 274 & 277 (Al-Baqarah)
3: 139, 170 & 176 (Aa’l-e-Imran)
5: 69 (Al-Ma’eedah)
6: 48 (Al-An’aam)
7: 35 & 49 (Al-Aa’raaf)
10: 62 (Yunus)
41: 30 (Fussilat)
43: 68 (Az-Zukhruf)
46: 13 (Al-Ahqaaf)
QURAN ENCOMPASSES COMPLETE DEEN/ISLAM WITHIN IT FOR THE GUIDANCE OF THE WHOLE HUMANITY FOR ALL THE TIMES TO COME
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ……
Remember that the System of Life Approved by Allah is only Islam.
| Meaning | Word |
|---|---|
|
The System of Life The Divinely Prescribed by Allah Way of Life |
دین Deen |
|
Submission to Allah Submission to Divine Laws/Values |
الإسلام Al-Islam |
One of His ATTRIBUTES is AL-MU’MIN المؤمن The One who Guarantees PEACE).
…..الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا….
MAFHOOM مفہوم
۔۔۔۔۔۔ آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیئے اسلام کو نظام حیات کے طور پر پسند کیا۔۔۔۔۔۔۔ (جس کے ساتھ کسی اور نظام حیات کا تصور نہیں کیا جا سکتا)۔
……..this Day I have COMPLETED My favor upon you, and Chosen for you Al-Islam as the DEEN; System of Life. Allah has bestowed His full Blessings upon you and Islam has been assigned for you, as your DEEN which We have PERFECTED/COMPLETED for you…..
6: 115 (Al-An’aam)
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا……
MAFHOOM مفہوم
اِس قرآن میں‘ اللہ کا ضابطہ قوانین‘ تمام صداقتوں کو اپنے اندر لئے‘ اور عدل و توازن کے تقاضون کو پورا کرتے ہوئے‘ مکمل ہو چکا ہے۔ یہ مکمل ایسا ہے کہ اِس میں اضافے کی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس اللہ کی کتاب ہے (کلام ہے) جو سنتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ (اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ انسانی راہ نمائی کے لئے جو کچھ دیا جانا ضروری تھا‘ اُس میں سے کوئی بات لا علمی کی بنا پر رہ گئی ہو)۔
Allah’s Laws/Values based on the Truth and Justice have been set forth in this Book in a COMPLETE form. (This is because this Book has been sent down by Allah who Hears and Knows Everything).
3: 85 (Aa’l-e-Imran)
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
Whoever seeks as a Way of Life OTHER than ISLAM (Submission to Allah), it will never be accepted from Him, and in the life Hereafter, he will be among those who have completely lost their investments.
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ
(سورة البقرة , آیت 2)
MAFHOOM مفہوم
تم جس ہدایت کی آرذُو رکھتے ہو وہ ہمارے اِس ضابطہ قوانین کے اَندر محفوظ ہے جس میں نہ بے یقینی اور تذبذب ہے ‘ اورنہ کوئی نفسیاتی اُلجھن۔ یہ ضابطہ‘ قوانین ‘ سفر زندگی میں‘ اُن لوگوں کو اِنسانیت کی منزلِ مقصود کی طرف لے جانے والی راہ بتاتا ہے جو غلط راستوں کے خطرات سے بچنا چاہیں۔
Allah, the Wise and the Knowing has said: “The Guidance you long for, is preserved in this Book wherein there is NO Uncertainty, Ambiguity or Psychological Perplexity. This Book shows to the Muttaqeen the Path leading to the ULTIMATE Destination prescribed for Humanity.
-
The Muttaqeen are those:
- Who wish to avoid pitfalls of the wrong path
- Who believe in the Unseen (which becomes comprehensible through reflection on the Quran)
- Who are confident that the Right Path will lead to the Destination even though the former may be obscured initially. In order to achieve this objective, they establish the NIZAM-E-SALA’AT in which all human beings follow the Laws of Allah, and after retaining that much which is necessary to meet their basic needs, they keep the remaining material resources open for the needy ones for their nourishment.
- Who keep away from things that are harmful to his Personality and Character, by adhering to the Laws/Values of Allah, thus rejecting a Negative approach to life and accepting Positive virtues
- Who is conscious of his DUTIES & RESPONSIBILITIES as a True Muslim.
A MUTTAQI متقي will NOT DEPEND on Quranic Translations/Tafaseer based on SECONDARY BOOKS. He will try to understand Quran DIRECTLY from Quran itself.
There are many Ayaat related to Muttaqeen متقين.
For Comprehensive definition of Muttaqeen, refer to 2: 177 (Al-Baqarah)
VERY IMPORTANT
ذالك الكتاب لا ريب فيه
Please ponder:
Allah Explains that “This Book (كلام الله)” doesn’t contain ANY “RAIB ربب”.
It is very IMPORTANT to CLEARLY understand the meaning of; “There is NO ريب “IN THIS BOOK”?
What it means?
As I understand, if, while pondering on Quran, we IMPORT something from outside (from secondary books) of كلام الله, we will be INVITING RAIB ریب, in understanding this BOOK كلام الله and we will not be able to understand Quran VIVIDLY.
Lets understand “RAIB ریب”
RAIB ریب
یہ اصل میں نفسیاتی الجھن اور اضطراب نفس کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ نیز شک و شبه اور بےچینی کو بھی ریب کہتے ہیں ۔
ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی “شک” کے ہیں یا “شک اور خوف” کے۔
الريب : جو چیز شک اور اضطراب میں مبتلا کر دے۔
اضطراب اور بے چینی پیدا کرنے والا شک۔
قرآن کریم میں یہ لفظ متعدد آیات میں استعمال ہوا ہے۔
The Quran has used the Word “RAIB” and it’s derivatives in the following Ayaat:
9: 110 (At-Taubah)
14: 9 (Ibrahim)
29: 48 (Al-Ankaboot)
34: 54 (Saba)
52: 30 (At-Toor)
ذالك الكتاب لا ريب فيه
یہ وہ ضابطہ حیات ہے جس میں کوئی بھی بات ایسی نہیں جو شک و شبہ والی ہو۔اور اس کی وجہ سے انسان کے دل جس کسی قسم کا اضطراب اور کشمکش باقی رہے۔ یعنی اس میں کامل سکون و اطمینان دینے والی تعلیم ہے۔ اضطراب اور بے چینی کے لیے اس میں کوئی گنجائش نہیں، اس لیے کہ یہ یکسر علم و بصیرت پر مبنی اور دلائل و براہین پر قائم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ صحیح اطمینان، علم و براہین ہی سے حاصل ہو سکتا ہے ، اندھی عقیدت مندیوں اور توہم پرستیوں سے نہیں ۔
THEREFORE, IT IS UTMOST IMPORTAN:
TO AVOID ANY CONFUSION/AMBIGUITY WHILE PONDERING QURAN, WE MUST UNDERSTAND QURAN DIRECTLY FROM QURAN ITSELF USING THE PRE-REQUISITES OF UNDERSTANDING QURAN AS PROVIDED BY ALLAH HIMSELF IN QURAN.
Allah Himself TEACHES US كلام الله.
الرحمن
علم القرآن
Allah tells us that His Book is:
احسن الحديث
احسن التفسير
احسن القصص
We will discuss the above in detail soon.
AS A YOUNG STUDENT, WHILE UNDERSTANDING QURAN THROUGH EXISTING CONVENTIONAL TRANSLATIONS (WHICH, IN MY VIEW, PREDOMINANTLY USE SECONDARY BOOKS), I USED TO BE ALWAYS IN RAIB ريب.
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشاہ ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
Allah Tells us that كلام الله IS CURE AND HEALER….شفاء
WHAT DOES IT HEAL/CURE?
QURAN IS THE CURE OF ALL ILLS OF HUMANITY; A HEALER FOR THE AILMENTS OF MIND-SET/PSYCHE;
EMOTIONAL AND PSYCHOLOGICAL (FEAR, CONFUSION, AMBIGUITY, UNCERTAINTY, ANXIETY, PERPLEXITY AND DEPRESSION/DESPAIR)
HOW?
MAFHOOM مفہوم
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ
(سورة يونس , آیت 57)
وہی قانون ہے جو اب اے نوعِ انسان! تمہارے نشوونما دینے والے کی طرف سے‘ اس ضابطہ ہدایت کی شکل میں تمہارے پاس آگیا ہے۔اس میں‘ ہر اس کشمکش کا علاج ہے جو تمہارے دل کو وقف اضطراب رکھتی ہے۔ جو‘ ہر اس قوم کی‘ جو اسے اپنا ضابطہ حیات تسلیم کر لیتی ہے‘ کامیابیوں کی راہ کی طرف راہ نمائی کر دیتا ہے ‘ اور انہیں سامانِ نشوونما سے
بہر یاب کر دیتا ہے.
جب قرآن کی مستقل اقدار کو اپنانے سے انسانی ذات کی نشو و نما ہوتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ اس کی ذہنی الجھنیں بھی دور ہوتی چلی جاتی ہیں ۔
O Humanity! the same Law has now come to you from your Rabb. It is Healing for the Ailments of (and that which troubles) your Hearts/Mind-set/Psyche and Guidance and Rahmat (Nourishment of Grace) to those who believe and practically apply it.
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ
(سورة يونس , آیت 58)
ان سے کہو کہ اس قسم کے ضابطہ ہدایت کا مل جانا اللہ کے فضل ورحمت سے ہے۔ تم کسی قیمت پر بھی اسے حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا تمہیں چاہئے کہ تم اس کے ملنے پر جشن ِمسرت مناﺅ۔ یہ ہراس شے سے بہتر ہے جسے تم جمع کرتے رہتے ہو۔ یعنی زندگی کی ہر متاع سے زیادہ گراں بہا اور عزیز تر۔
O Rasool! tell them it is only through the Rahmat of your Rabb that you have received this. You should, therefore, rejoice over it. This is more precious to you than all the wealth that you may amass.
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا
(سورة بنی اسراءیل , آیت 82)
یہ سب کچھ‘ اُس قرآن کی رُو سے ہوگا جس کی تعلیم‘ جماعت ِمومنین کے دل کے تمام روگ مٹا دے گی۔ اُن کی نفسیاتی کمزوریاں اور داخلی کشمکش دور ہوجائے گی‘ اور‘ مثبت طور پر ا‘ اُن کی صلاحیتوں کی نہایت عمدگی سے نشوونما ہوجائے گی۔ اِن کے برعکس‘ جو لوگ اس سے سرکشی برت رہے ہیں‘ اور ظلم و استبداد کی راہ اختیار کئے ہیں‘ اُن کے سامانِ ہلاکت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ (جس طرح طلوع سحر‘ شب کی تاریکی کے لئے موجب ہلاکت ہوتی ہے‘ اسی طرح صِدق وعدل پر مبنی اللہ کے نظامِ کے قیام سے‘ ظلم واستبداد کی قو توں کی تباہی ہوتی ہے)۔
O Rasool: Announce to the entire world that TRUTH has manifested itself and falsehood has vanished; for falsehood has vanished; for falsehood by its very nature must perish eventually. This will also happen by following this Quran (step by step) which is a Healing and Rahmat for those who believe but which increases the loss and distress of those who reject it.
IMPORTANT
WHY THE REVELATION, WHICH IS THE TRUTH (الحق), IS CALLED A “HEALING”?
Quran describes DENIAL as a “disease”, calls Deniers “deaf, dumb and blind” (2: 18; Al-Baqarah) and “dead” in 27: 80 (An-Naml). This is the rReason why the REVELATION وحي, which is the TRUTH, is called a HEALING.
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
41: 44 (Fussilat)
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قراں زیستن
If you want/wish to Live a Life of Muslim, it is NOT possible without CONSISTENTLY spending/living life in Line with Divine Laws/Values.
In other words,
it is ONLY POSSIBLE to live as a Muslim without PRACTICALLY Applying Divine Laws, Principles and Permanent Values.
“BELIEVING IS SEEING”
QURAN IS THE BEST AND THE MOST BALANCED HADITH احسن الحديث
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ
(سورة الزمر , آیت 23)
SEE WHAT THIS BEAUTIFUL, BEST AND BALANCED HADITH DO?
(احسن الحديث)
MAFHOOM مفہوم
اللہ نے اس وحی کو اس انداز سے نازل کیا ہے کہ یہ اپنے حسن و توازن میں کمال تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی ہر ایک شق‘ دوسری سے ملتی ہے۔ کہیں کوئی اختلاف نہیں۔ تضاد نہیں۔ پھر اس کے مطالب کی وضاحت متضاد چیزوں کو سامنے لا کر کی گئی ہے…. مثلاً نور کے مقابلہ میں ظلمات۔ حیات کے مقابلہ میں ممات وغیرہ۔ اس تقابل سے بات بڑی واضح ہوجاتی ہے….نیز (تصریف) آیات (بات کو دہرانے ) سے بھی اس کے مطالب کو
واضح کیا گیا ہے۔
جو لوگ قرآن پر اس طرح غوروفکر کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کے نتائج کس قدر تباہ کن ہیں‘ تو اس احساس سے اُن پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے….لیکن اس سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوتے۔ ان کے
دل‘ اللہ کے قوانین کی اطاعت کے لئے اور نرم ہوجاتے ہیں۔
یہ ہے وہ ضابطہ ہدایت جس سے وہ‘ ہر اُس شخص کی صحیح راستے کی طرف راہ نمائی کر دیتا ہے‘ جو اس سے راہ نمائی حاصل کرنا چاہے۔ لیکن جو شخص کوئی ایسا راستہ اختیار کرے جسے یہ وحی غلط قرار دیتی ہے‘ تو اُسے منزلِ مقصود تک کوئی نہیں پہنچا سکتا۔ (یاد رکھو…. غلط راستہ کبھی صحیح منزل تک نہیں پہنچایا کرتا)۔
-
Allah the Almighty has REVEALED this Wahi with the following BEAUTIFUL AND BEST Characteristics:
- Perfect in Beauty and with Best & Balanced Explanation.
- Each of its parts juxtaposes perfectly with the other.
- It is fully consistent within itself.
- No Differences or Contradictions can be found therein.
- Its contents are explained by pairing its Statements with antonyms, for example “light and darkness” and “life and death”. Such comparison make the matters vividly clear and obvious.
- Also, the repetition of (some) verses over and over, from various facets/angles and diverse forms thus making their explanations vividly clear. In this way the Book presents its OWN EXPOSITION.
- It Marks up both ways (to Success & Failure)
People who ponder over the Quran (احسن الحديث) in the above manner and comprehend the results of doing anything contrary to its teachings, shiver at the very thought of how destructive this would be. However, they do not become disheartened because of this. Instead, their hearts become mellower, softer and more receptive to obeying/ submitting the Divine Laws/Values.Thus, this is the Divine Code which provides correct Guidance to every one who seeks it’s Guidance. However, no one can get good results if one adopts a Way of Life against the Wahi.
IMPORTANT
Always remember:
“A Wrong Path can NEVER lead anyone to the Right Destination”
QURAN GIVES THE BEAUTIFUL, THE BEST AND THE MOST BALANCED & COMPREHENSIVE RESPONSE & EXPLANATION TO ALL OF THE QUESTIONS/QUERIES AND SOLUTIONS TO ALL PROBLEMS ONE (INDIVIDUAL OR NATION) MAY HAVE.
احسن التفسير
اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ:
“قرآن میں لوگوں کے سوالوں اور اعتراضات کا بہترین، بہت خوبصورت اور نہایت متوازن جواب، تفصیل کے ساتھ، قرآن میں ہی ہے”۔
قرآن میں اللہ فرما تے ہیں کہ میں ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب اپنی اسی کتاب میں خود دیتا ہوں۔
2: 186 (Ak-Baqarah)
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔۔۔۔۔۔
O, Rasool! when My Devotees (عبادى) ask you about Me, tell them that I am close to them at all times. (This means that) when anyone calls upon Me to lead him to the Right Path, My Guidance which is preserved in the Quran, answers his call. Therefore, tell them that the WAY to attain the nearness of Allah is to adhere to My Laws fully, believing implicitly in, and by following these Laws, Principles and Permanent Values, they will be able to walk firmly upon the Right Path of life.i
وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا
(سورة الفرقان , آیت 33)
MAFHOOM مفہوم
(تمام بالکل مطمئن رہو اوراِن کی باتوں سے گھبراﺅں نہیں)۔ جو سوال/ اعتراض بھی کریں گے‘ اس کا جواب‘ حق وصداقت کے ساتھ‘ تمہارے سامنے آجائے گا اور وہ ایسا واضح اور مدلل ہو گا (کہ اس کے بعد کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی)۔
(Rest assured that) The True comprehensive reply to whatever Objection/Question they raise will come before you with clarity; and it will be explicit and comprehensive (so that there will be no need to say anything more).
SEE WHAT THIS BEAUTIFUL, BEST AND BALANCED TAFSEER DO?
(احسن التفسير )
TGE BEST POSSIBLE & THE MOST COMPREHENSIVE ANSWERS TO ALL QUESTIONS/QUERIES AND PERFECT SOLUTION TO ALL PROBLEMS.
QURAN NARRATED THE BEST AND THE MOST BALANCED & COMPREHENSIVE STORIES OF EARLIER NATIONS/,QUOMAIN TO LEARN LESSONS FROM THEM.
احسن القصص
Best & Balanced Stories
اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ اس نے: قرآن میں پہلے گزری ہوئی قوموں کے نہایت متوازن اور بہترین انداز میں قصے بیان کئے ہیں تا کہ ان سے ہم سبق حاصل کریں”۔ قرآن تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔
Quran explains the PHILOSOPHY OF THE HISTORY.
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ
(سورة يوسف , آیت 3)
MAFHOOM مفہوم
اے رسول! ہم‘ اس قرآن کو‘ تم پر وحی کے ذریعے نازل کرکے‘ تم سے انبیائے سابقہ اور اقوام گزشتہ کیO سرگذشتیں بہترین طریق پربیان کرتے ہیں۔وہ سرگزشتیں جن سے تم نزولِ قرآن سے پہلے باخبر نہیں تھے۔
O Rasool, through the REVELATION which We have sent down to you in the Quran We are narrating to you the best stories of which you were hitherto unaware.
LESSONS SHOULD BE LEARNT FROM THE STORIES NARRATED IN QURAN.
THESE STORIES ARE ABSOLUTE REALITY/THE TRUTH
القصص الحق
OTHER REFERENCE
(TASREEF-E-AYA’AT)
3: 62 (Aa’l-e-Imran)
7: 176 (Al-Aa’raaf)
28: 25 (Al-Qasas)
QURAN, THE LAST BOOK OF ALLAH, EXPLAINS EVERYTHING VIVIDLY INLUDING DETAILS, AS REQUIRED, WITH CLARITY
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ
(سورة الأنعام , آیت 114)
MAFHOOM مفہوم
ان سے پوچھو کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اللہ کو چھوڑکر‘ کسی اور کے قانون کے مطابق تمہارے معاملات کے فیصلے کرنے لگ جاﺅں‘ حالانکہ اُس نے تمہاری طرف ایک واضح اور نکھرا ہوا ضابطہ قوانین بھیج دیا ہے۔ جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی ہے (یعنی جماعت ِمومنین) کے ارباب علم وبصیرت ۔وہ اس حقیقت کو پا گئے ہیں کہ یہ فی الواقعہ تیرے نشوونما دینے والے کی طرف سے‘ حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے۔ اِس لئے‘ ان مخالفین کے ساتھ جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔
O Rasool ask them: “Do you want that I should seek an Authority; Judge/Ruker, other than Allah when He has sent down for you the Book which States Everything so Clearly. It is well expounded and in detail, as required. Those who have accepted this Book have understood it Vividly that it has been Revealed by Allah and is based upon the Truth الحق. There is no need to dispute with them.
اللہ کی یہ کتاب مفصل اور مکمل ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں غیر متبدل احکامات، اصول اور مستقل اقدار کے ساتھ ساتھ ان کی جزیات تک بھی دے دی گئی ہیں۔
ان اصول و اقدار پر عمل درآمد، ہر زمانے میں قرآنی حکومت (یعنی اسلامی حکومت، جو قرآن کے مطابق ہو گی)، باہمی مشورے سے خور متعین کرے گی۔ یہ طریق عمل (جزئیات) زمانے کے بدلتے ہوے تقاضوں کے مطابق بدلتا جائے گا لیکن قانون، اصول اور مستقل اقدار ہمیشہ اپنی جگہ “غیر متبدل ” رہیں گے ۔
ان آصولوں پر عمل درآمد، ہر قوم اور زمانے کے حالات کے مطابق ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے احباب علم و عقل (مومنین) طریقے وضع کر سکتی ہے۔
“ختم نبوت” کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اب اپنے معاملات اپنی عقل و فہم اور فکر سے کر سکتا ہے۔ قطعا نہیں! انسان ہمیشہ وحی کی راہ نمائی کا محتاج رہے گا۔
وحی قرآن میں محفوظ اور مکمل ہے۔ اب مزید وحی کی ضرورت نہیں ۔
NOTE: Repetition is deliberate…..
The fact that this Book of Allah is Detailed and COMPLETE does not mean that, along with its Immutable Laws, Principles and Permanent Values, it also provides every minor detail or Specific Application.
In other words,
A slightly more formal version would be that:
This Book of Allah is Comprehensive and COMPLETE does not imply that it contains every minute detail alongside its Unchangeable Laws, Principles, and Permanent Values”.
The implementation of these Principles and Permanent Values is to be determined by a Quranic Government (An Islamic Government functioning according to the Quran: Islami Falahi Riyasat) in every era through MUTUAL CONSULTATION.
While the Specific Methods and details of implementation may change to meet the evolving demands of time, the underlying Laws, Principles, and Permanent Values will always remain Immutable. The application of these principles can vary according to the circumstances of each Nation and Era, and human intellect and knowledge can be used to devise the Appropriate Methods for this.
“The Finality of Nahuwwat” (Khatm-e-Nabuwwat) does not mean that humans are now free to manage their affairs solely through their own Intellect and Reason. Not at all! Humanity will always remain in need of the Guidance of Revelation (Wahi). That Revelation is Preserved and Complete within the Quran; therefore, no further Revelation is required.
-
اللہ تعالی نے نہائت واضح الفاظ میں قرآن کے بارے میں بتا دیا:
- ہر طرع سے مکمل ہے۔
- غیر متبدل ہے
- اس میں کوئی تحویل بھی نہیں ہو سکتی۔
- مفصل ہے۔
- مکمل طور پر محفوظ ہے۔
- قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے ضابطہ حیات ہے ۔
OTHER REFERENCES
(TASREEF-E-AYA’AT)
6: 97, 119 and 154 (Al-An’aam)
7: 52 (Al-Aa’raaf)
10: 5 (Yunus)
13: 2 (Ar-Ra’d)
17: 12 (Bani Israel)
41: 3 (Fussilat)