کیا کریں؟

ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کی دنیا میں ہوائیں تند اور مخالف سمت میں ہی چل رہی ہیں اور لگ رہا ہے کہ چلتی رہیں گی، کیوں کہ مشکل یہ ہے کہ غلامی کے پنجرے میں ہم غفلت کی نیند سو رہے ہیں اور باد مخالف کی تندی کا مقابلہ کرنے کی ہم میں اب طاقت ہی نہیں رہی، اور اب تو غلامی کو ہی ہم نے اپنا مقدر سمجھ لیا ہے۔

اگر ہم نے اپنی یہ روش نہ بدلی تو:
نتیجہ:
ذلت و رسوائی اور غلامی کا تسلسل: اس دنیا میں، اور آخرت میں عذاب اکبر۔
ہمارا بنیادی مسئلہ

حرم پاک بھی، اللہ بھی، قران بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

ابلیس کی اپنے مشیروں کو تاکید کہ مسلمانوں کو:
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تا بساط زندگی، اس کے سب مہرے ہوں مات
علامہ اقبال نے کہا:
خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہؤے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشاہ ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قراں زیستن

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟

اب کچھ میری عرض بھی سن لیں:
کر نظام باطلاں کو زیر کرنے کا عہد
یوں کھلے گا انقلاب “لا الہ” کا شیریں باب

محو کر دے اپنے دل سے ہر تصور غیر کا تو
یوں بساط زندگی میں کر لے پیدا انقلاب

ہے مسلماں زلتوں میں، کیا ہے یہ تیرا مقام؟
سازشوں میں گھر رہا ہے، کر انہیں تو بے نقاب

“بے شرف” یہ زندگی کیوں کر بنے گی “با شرف”
چھوڑ کر در غیر کے سب تو کھڑا ہو اے شباب!

راج سارا اس جہاں میں قوت طاغوت کا ہے
روک لے تو اے مسلماں! قوتوں کا یہ سیلاب

جان لے کہ کیسے ہو گا اہل جنت میں سے تو
کر نگوں “ابلیس” کو تو گو کٹھن ہے اے جناب

راستہ تو ہے کٹھن یہ اور کانٹے بے شمار
ان ہی کانٹوں کو مسل کر، کر لے حاصل تو گلاب

گر جہنم اس جہاں میں ، نہ ملے جنت وہاں پر
تو بنا جنت یہاں پر، پورا کر جنت کا خواب

جانتا ہے کس میں پنہاں راز ہے “تعمیر قوم”
تو جواں کر امتزاج “لا” اور “الا” اے شباب!

جانتا ہے سب خدا کہ نفس میں تیرے ہے کیا؟
اس یقیں کو تو بدل لے، جیسی چاہے “الکتاب”

ہے تجھے معلوم عظمی، اب تجھے کرنا ہے کیا؟
تھام کر رسی خدا کی، عمل صالح بے حساب

طارق عظمی
(میں شاعر نہیں )