THE WORDS OF OUR RABB WOULD NEVER BE EXHAUSTED
ہمارے رب کی باتیں کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا
Say, ‘If all the sea were INK for my RABB’s WORDS, the sea would be exhausted before the WORDS OF MY RABB are exhausted! And thus it would be if We were to add to it SEA UPON SEA.
وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ
(سورة لقمان , آیت 27)
اس کائنات کی وسعتوں‘اور اللہ کے قوانین کی حدود فراموشیوں کا یہ عالم ہے کہ اگر تما م روئے زمین کے درخت قلم بن جائیں‘ اور موجودہ سمندر سب روشنائی میں تبدیل ہوجائیں….اور ان کے ساتھ کئی اور سمندر بھی ملا دئیے جائیں…. تو بھی ان قوانین کا احاطہ نہ ہو سکے ۔اور یہ قوانین جہاں انتی قوت رکھتے ہیں کہ اس قدر عظیم القدر نظام کائنات کو اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں‘ اس کے ساتھ ہی یہ علم وحکمت پر مبنی ہیں۔ یونہی اندھی قوت کی بنا پر نافذ العمل نہیں۔
The LIMITLESSNESS of the UNIVERSE and the DIVINE LAWS/VALUES are such that even if all the TREES on the earth become PENS and the existing OCEANS turn into INK, with many more added to them, they will not be sufficient to encompass all His LAWS/VALUES. Not only are these LAWS forceful enough to keep this HUGE UNIVERSE in DISCIPLINE and CONTROL, they are also LOGICAL and based on WISDOM. They are not being APPLIED BLINDLY.
کبھی نہ ہو گی ختم مرے خدا کی بات
مرا قلم بھی لکھے تو ہو وہ خدا کی بات
مری ہے خواہش صدا لکھوں میں حق کی بات
بلائے رب تو میں لکھ رہا ہوں خدا کے بات
طارق عظمی