ALWAYS STAND FOR JUSTICE, EVEN WITH THE ENEMY
ہمیشہ عدل و انصاف کے محافظ بن کر رہو، اور دشمن سے بھی عدل کرو
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
(سورة المائدة , آیت 8)
MAFHOOM مفہوم
اس نظام کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ تم دنیا میں عدل و انصاف کے محافظ و نگران بن کر رہو ۔ اس حد تک محافظ و نگران کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس سے عدل نہ کرو۔ ہمیشہ عدل کرو۔ اور دوست‘ دشمن ‘ ہر ایک سے عدل کرو۔ یہ رَوش تمہیں اس معیار زندگی کے نزدیک تر لے آئے گی جس تک تمہیں اللہ لانا چاہتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس روش کی پابندی کرو۔ یاد رکھو! اللہ کا قانونِ مکافات عمل تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
O Jama’at-ul-Momineen, always stand up for justice in the cause of Allah. Let not the Enmity of others towards you make you deviate from the Path of Justice. Always, and in all circumstances, act justly. This is akin to Taqwa. Always adhere to the Laws/Values of Allah Who is aware of all that you do.
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا
(سورة النساء , آیت 135)
اِس نظام کے قیام کے لئے ‘ جس میں حال اور مستقبل دونوں کی خوشگواریاں حاصل ہوتی ہیں‘ بنیادی شرط یہ ہے کہ تم دنیا میں عد ل و انصاف کے محافظ ونگران بن کر رہو ۔ عدل کے لئے ایک بنیادی عنصر سچی شہادت ہے۔ تم شہادت ‘ نہ مدعی کی طرف سے دو نہ مدعا علیہ کی طرف سے۔ تم اللہ کی طرف سے گواہ بن کر کھڑے ہو اور ہمیشہ عدل و انصاف کو مد نظر رکھ کر سچی سچی شہادت دو‘ خواہ یہ شہادت (اور تو اور) خود تمہارے اپنے خلاف جائے۔ یا تمہارے والدین یا دیگر رشتہ داروں کے خلاف ۔ اس باب میں‘ امیر اور غریب میں بھی کوئی امتیاز نہ کرو، حتیٰ کہ دشمن سے بھی عدل کرو۔ تم جادہ ء حق ُصداقت سے ہٹ کر‘ ان کے خیر خواہ مت بنو۔ اللہ کو ان کی خیر خواہی کی زیادہ فکر ہے۔ اس کا خیال رکھو کہ تمہارے جذبات کہیں عدل کی راہ میں حائل نہ ہوجائیں۔ نہ ہی کوئی پیچدار بات کرو ۔ نہ شہادت دینے سے پہلو تہی کرو۔ یاد رکھو! اللہ کا قانونِ مکافات تمہارے تمام اعمال(جذبات و رحجانات تک) سے اچھی طرح واقف ہے۔
For this purpose justice should prevail. Justice depends mainly on evidence. O! Jama’at-ul-Momineen, if you are called upon to give evidence, do not appear as a witness on behalf of either party, but for Allah. Be truthful in giving evidence even though it be against your Own-selves or your parents and kin-folk, whether the party concerned be rich or poor. Allah safeguards the interests of both parties. Do not follow your own inclinations lest you should swerve from justice. Do not foist your statements nor show aversion to appearing as a witness. Allah is well aware of what you do.
OTHER REFERENCE
5: 2 (Al-Ma’eedah)