THE PURPOSE OF MAKING THE PAKISTAN

پاکستان کو بنانے کا مقصد

Let’s ask Quran……

22: 41 (Al-Hajj)

We got (GIFT); a LAND on Earth named: Pakistan.

FOR What?

Quran EXPLAINS:

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۭ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ

(سورة الحج , آیت 41)

MAFHOOM

(مظلوموں کی یہ جماعت جو دُنیا سے ظلم اور سرکشی کو مٹانے کے لئے اٹھی ہے)۔ اگر ہم نے انہیں ملک میں حکومت عطا کردی۔ انہیں اقتدار حاصل ہو گیا (تو یہ ظلم اور استبداد نہیں کریں گے) یہ نظام صلوٰة قائم کریں گے (تاکہ تمام افراد معاشرہ ‘ اللہ کے قوانین کا اتباع کرتے چلے جائیں ) یہ تمام نوع انسانی کو سامان نشوونما بہم پہنچائیں گے۔ یہ ان احکام کو نافذ کریں گے جنہیں اللہ کا قانونِ (قرآن) صحیح تسلیم کرتا ہے۔ اور تمام ایسے کاموں سے روکیں گے جنہیں وہ جائز قرار نہیں دیتا۔ غرضیکہ (یہ ہر پیش آمدہ معاملہ کے متعلق دیکھیں گے کہ اس باب میں اللہ کا قانون کیا کہتا ہے۔ اس طرح ان کی حکومت میں‘ بحث وتمحیص اور باہمی مشاورت کے بعد‘ آخرالامر) ہر معاملہ کا فیصلہ اللہ کےقانونِ کے مطابق ہو گا ۔

(Concerning the group of oppressed people which has at last risen to wipe out Transgression and Zulm) If We bestow on them the authority to rule and they do come into power, (they will not do any injustice and oppression but) they will Establish System of Salat (so that everyone in society follows the system of Divine Laws). They will provide means of development to each and everyone and enforce Laws which are in conformity with the Divine Code (the Quran); and forbid people from doing anything that is contrary to it. In other words, in every case they will first look for the guidance given by Allah’s Law; and then after discussion and consultation decide their affairs according to the Divine Law

WARNING

WHY KALAM-ALLAH?

اللہ، رحمٰن ورحیم, نے اس کتاب ِ عظیم کو اس لئے نازل کیا ہے کہ اُس نے اشیائے کائنات اور نوعِ انسان کی نشونما کی جو ذمہ داری لے رکھی ہے، وہ پوری ہو جائے ۔ یہ نشوونما، وحی کی راہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔
چونکہ انسانی دنیا میں اللہ کی ذمہ داریاں انسانوں کے ہاتھوں پوری ہوتی ہیں، اس لئے اللہ کے بندوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جس کام کا بھی ارادہ کریں اُس سے مقصد اللہ کے اِس پروگرام کی تکمیل ہو۔

5: 44 (Al-Ma’eedah)

ِ

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ

(سورة المائدة , آیت 44)

دین (یعنی اللہ کا قانونِ) کی سرگذشت یہ ہے کہ ہم نے تورات نازل کی (جو اُن مختلف صحف کا مجموعہ ہے جو انبیائے بنی اسرائیل کو وقتاً فوقتاً ملتے رہے)۔ اُس میں (ہر آسمانی کتاب کی طرح) صحیح راستے کی طرف راہ نمائی اور روشنی تھی۔ ان کے انبیا ءعلیہ السلام جو سب کے سب مسلم تھے‘ ( یعنی اللہ کے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے) ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ‘ جو اپنے آپ کو یہودی کہتے تھے (حالانکہ انہیں بھی اپنے آپ کو مسلم ہی کہنا چاہئے تھا) اسی ”نور و ہدایت“ کے مطابق کرتے تھے۔ا ور اُن کے علماءو مشائخ بھی انہی صحف کے مطابق احکام دیتے تھے جو اُن کے انبیاء علیہ السلام کی طرف نازل کئے گئے تھے ‘ اور جن کا انہیں (علماءومشائخ کو) محافظ ٹھیرایا گیا تھا۔ اور وہ ان کے نگران بننے کے مدعی بھی تھے۔ ان سے خاص طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ تمام امور کے فیصلے انہی ضوابط کے مطابق کرو اور لوگوں سے مت ڈرو۔ ڈرو صرف اللہ کےقانون کی خلاف ورزی سے۔ اور قانون فروشی کی دکان مت لگا بیٹھو۔ یادرکھو! جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جسے خد آللہ نے نازل کیا ہے‘ وہ کافر ہے‘ خواہ وہ زبان سے اس قانون پر ایمان رکھنے کا مدعی بھی کیوں نہ ہو…. کافر ومومن کی تمیز بھی اسی سے ہوتی ہے۔

The fact is that We had sent them the Torah which contained Guidance and Light. Their Anbia who surrendered to Allah’s Laws used to settle their disputes according to it (WAHI). The Rabbis and guardians of Law who were vested with the responsibility of safeguarding Allah’s Revelation and they also bore witness to its truth, did likewise. So, O Jews! fear none except Me and do not barter My Injunctions for a paltry price.

Mark this: Those who do not decide their affairs according to what Allah has Revealed – they are the one who, in fact, are the K’afireen.

Also, may I respectfully request ALL to Ponder the following Ayaat:

6: 12 & 54 (Al-An’aam)
10: 57 & 58 (Yunus): V. Imp
17: 82 (Bani Israel): V. Imp

a student of Quran (a reminder for myself)