ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

کتنے بے حس ھم ہوئے ہیں، ہر کوئی ہے محو خواب
ہر ارادہ پست تر ہے، جھوٹ دھوکہ بے حساب

 

بے پناہ مادہ پرستی، رات دن ہے حب مال
دل ہی دل میں جانتے ہیں، ہے یہ مانند سراب

 

کیوں مگن ہم عیش میں، ہے مال و دولت بے ثبات؟
فرد فردا حاضری میں، ہو گا کیا تیرا جواب؟

 

ظلمتوں میں ڈوبتی ہی جا رہی ہے اپنی قوم
پستی ء کردار نے سب کر دیا خانہ خراب

 

ہر عبادت ہو رہی ہے، “بے نتیجہ” کیوں ہیں سب؟
ہر عمل میں ہم منافق، یوں نہ ہوں گے کامیاب

 

ہر عمل وہ لکھ رہا ہے، یوں بنے تیری کتاب
یہ بھی سوچا آخرت میں کیا کہے گی یہ کتاب؟

 

نامہء اعمال پڑھ کر، فیصلہ تو خود کرے گا
تو بنے گا خود گواہ، اور ہو گا بے نقاب

 

ہم بٹے فرقوں میں ہیں، گر نہ بدلی یہ روش
ذلتیں ہیں اس جہاں میں، بد ترین آخر عذاب

 

طارق عظمی
(میں شاعر نہیں)