EVERTHING CREATED BY ALLAH IN THE UNIVERSE IS IN PERFECT BALANCE/PROPORTION (BEST, BEAUTIFUL AND BALANCED)
صحیح صحیح توازن اور تناسب
الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ……
32: 7 (As-Sajdah)
اللہ تعالی نے کائنات کی ہر شے کو بہترین تناسب کے مطابق پیدا کیا ہے۔
الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ
(سورة السجدة , آیت 7)
اس مقصد کے لئے‘ اس نے ہر شے کی تخلیق میں بہترین حسن وتوازن رکھا ہے۔ اُس کی انہی اسکیموں میں سے ایک اسکیم‘ انسان کی تخلیق بھی ہے۔ (اللہ کے عالم امر میں‘ اس اسکیم کے طے پاجانے کے بعد‘) اس کا آغاز اُس بے جان مادہ (INORGANIC MATTER) سے ہوا جو تمہارے سامنے مٹی کی صورت میں بے حس وحرکت پڑا ہے۔
For this purpose، He has maintained an excellent balance in the creation of everything; and one of His schemes is the creation of man. (After the scheme was established in His Aalm-e-Amr) man’s creation was initiated from inorganic matter which before you, was lying lifeless in the form of clay.
اللہ تعالی کی صفات کے لیے قرآن میں:
“الاسماء الحسنى” کے الفاظ آئے ہیں
59: 24 (Al-Hashr)
اللہ تعالی کی ذات وہ ہے جس میں مختلف صفات اپنے پورے پورے تناسب و توازن کے ساتھ انتہائی حسن کارانہ انداز سے یکجا جمع ہیں ۔ یہی انداز جب انسانی ذات میں پیدا ہو جائے (علی حد بشریت) تو اسے قرآن نے “اللہ تعالی نے رنگ میں رنگے جانے” سے تعبیر کیا ہے
2: 138 (Al-Baqarah)
صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ
(سورة البقرة , آیت 138)
ان سے کہو کہ‘ نجات وسعادت‘ رنگ چھڑکنے (بچوں کو بپتسمہ دینے) سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ اللہ کے قوانین سے یک رنگ وہم آہنگ ہونے سے حاصل ہوتی ہے ۔ اِس رنگ سے زیادہ حسین رنگ اور کونسا ہو سکتا ہے؟ اِن سے کہو کہ ہم نے اپنے لئے یہی رنگ تجویز کیا ہے۔ یعنی ہم نے خالص اللہ کے قانونِ کی اِطاعت اختیار کی ہے۔ اُس کے سوا ہم کسی کی محکومیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
Say to the Christians: “Salvation is not acquired through baptism by water. It is achieved through Harmony with the Divine Laws.” Say to them: “This is the way we have chosen for ourselves.” Who can give a better HUE than Allah. And it is He alone Whom we Serve.
Sibghah: His ATTRIBUTES in the human capacity.
In other words, adopting the Divine Attributes in our limited human capacity.
IMPORTANT NOTE
Simply beautiful, people can make a Self-assessment (Self-Accountability) by this SPECTRUM as where they STAND on ASCENDING ladder of Self-actualization OR Personal Development.
اللہ تعالی نے ہمیں جو دین/اسلام متعین طور پر قرآن کریم میں دیا ہے، وہ بھی “احسن” ہے:
4: 125 (An-Nisaa)
وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ
وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭوَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا
(سورة النساء , آیت 125)
ان تصریحات کے بعد اِن سے پوچھو کہ اُس نظامِ زندگی سے زیادہ حسین نظام اور کونسا ہوسکتا ہے جس میں ہر فرد اپنے جذبات ‘ توجہات‘ بلکہ پوری کی پوری ذات کو اللہ کے قوانین کے سامنے جھکا دے‘ اور پھر‘ نہایت حسن کارانہ انداز کی زندگی بسر کرے…. یعنی اُس مسلک کا اتباع کرے جسے ابراہیمؑ نے‘ تمام غیر خداوندی سمتوں سے ْمنہ موڑ کر‘ اختیار کیا تھا…. اور اِس کا نتیجہ یہ تھا کہ اللہ نے ابراہیم ؑکو اپنا دوست اور رفیق بنا لیا تھا۔ سوچئے کہ جس شخص کو خود اللہ اپنی رفاقت کے لئے چن لے‘ اُس سے زیادہ خوش بخت اور کون ہو سکتا ہے؟ یہی خوش بختی تمہارے حصّے میں بھی آسکتی ہے۔
In view of what has been stated above, ask them as to which Deen is better than one in which every individual surrenders to the Laws of Allah, does good to others, and follows the path of Abraham, the Haneef Allah had taken Abraham for a friend.
ایسا دین عطا کرنے والے اللہ کے متعلق بتا دیا:
5: 50 (Al-Ma’eedah)
اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ
(سورة المائدة , آیت 50)
اگر یہ لوگ‘ جن کے سامنے اپنی مفاد پرستیوں کے سوا کچھ نہیں، اِس نظام سے روگردانی کریں‘ تو سمجھ لو کہ ان کے جرائم‘ ان پر تباہیاں لانے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ چاہتے ہی یہ ہیں کہ صحیح راستے سے منہ موڑ کر ‘ غلط راہوں پر چل نکلیں اور‘ اس طرح‘ پھر اُسی نظامِ جاہلیت کو اختیار کر لیں جس پر وہ قرآن سے پہلے‘ قائم تھے۔ لیکن جو لوگ اللہ کے نظام کی صداقت اور محکمیت پر یقین رکھتے ہیں‘ وہ جانتے ہیں کہ نوع انسان کے لئے‘ ضابطہ الہی سے بہتر اور کوئی کوئی ضابطہ نہیں ہو سکتا۔
Those who turn away from the judgement you give, in fact, wish to revert to the time of Jahiliyyah. But the true Momineen know that there can be no Law or system better than the one given by Allah.
قرآن پاک کو بھی اللہ نے “احسن الحديث” کہا ہے:
39: 23 (Az-Zumar)
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ
(سورة الزمر , آیت 23)
اللہ نے اس وحی کو اس انداز سے نازل کیا ہے کہ یہ اپنے حسن وتوازن میں کمال تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی ہر ایک شق‘ دوسری سے ملتی ہے۔ کہیں کوئی اختلاف نہیں۔ تضاد نہیں۔ پھر اس کے مطالب کی وضاحت متضاد چیزوں کو سامنے لا کر کی گئی ہے…. مثلاً نور کے مقابلہ میں ظلمات۔ حیات کے مقابلہ میں ممات وغیرہ۔ اس تقابل سے بات بڑی واضح ہوجاتی ہے….نیز (تصریف) آیات (بات کو دہرانے ) سے بھی اس کے مطالب کو واضح کیا گیا ہے۔ اس طرح‘ یہ کتاب‘ اپنی تفسیر آپ کر دیتی ہے۔
Allah the Almighty has revealed this Wahi which is perfect in beauty and balance. Everyone of its parts juxtaposes perfectly with the other and it is fully consistent within itself. No differences or contradictions can be found therein.
تو معلوم ہوا کہ قرآن پاک کے مطابق اعمال حسنہ/حسنات کسے کہتے ہیں:
“ایسا کام جس سے معاشرے