DO NOT EAVESDROP OR BACKBITE AGAINST ONE ANOTHER AND AVOID ILL FEELINGS FOR OTHERS (EXTREMELY IMPORTANT IN EACH & EVERY RELATIONSHIP, AND FOR PEACE)
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ
(سورة الحجرات , آیت 12)
MAFHOOM مفہوم
(جب باہمی اختلاف ہوجائے تو اس سے فتنہ پرور لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور فریقین میں لگائی بجھائی کی باتیں کرتے ہیں۔ تم اس باب میں بڑے محتاط رہو۔ تم‘ ایک دوسرے کے متعلق ہمیشہ حسن ظن سے کام لو اور) بدگمانی سے اجتناب کرو۔ بعض بدگمانی تو ایسی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کے متعلق خیر سگالی کے تمام جذبات مضمحل کر دیتی ہے (حالانکہ وہ محض بدگمانی ہوتی ہے‘ وہ درحقیقت ایسا نہیں ہوتا) نہ ہی تم خواہ مخواہ ایک دوسرے کے راز کی باتوں کی ٹوہ لگاﺅ۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو۔ کیا تم اسے پسند کرو گے کہ تم! اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاﺅ۔ اس سے تو تمہیں سخت گھن آئے گی۔ (سو غیبت کی بھی ایسی
ہی مثال ہے)۔
المختصر‘ تم ہر معاملہ میں اللہ کے قوانین کی نگہداشت کرو۔ اور اگر کہیں غلطی کر بیٹھے ہو‘ تو اس سے نادم ہو کر اپنی اصلاح کر لو۔اس طرح‘ اللہ کا قانون تمہاری لغزش سے درگذر کرے گا اور تمہاری نشوونما میں کمی نہیں آنے دے گا۔
(When mutual differences arise, mischievous people take advantage and tell tales to both parties. In this regard you should be very careful. Have positive feelings and) Avoid ill feelings against others. Furthermore، some ill feelings slacken or dull goodwill. And do not EAVESDROP or BACKBITE against one another.
Would any one of you like to EAT THE FLESH OF A DEAD BROTHER? You would abhor it! (Backbiting is that detestable.) in short, always remain conscious of the Allah’s Laws, Principles and Permanent Values. If you have committed a mistake somewhere, then ACCEPT AND CORRECT yourself by being ashamed of it. In this way, THE ALLAH”S LAWS, PRINCIPLES AND PERMANENT VALUES will forgive your slips and ensure that the DEVELOPMENT OF YOUR SELF does not suffer.