خواہشوں کا سفر
یہ ملے، وہ ملے، سب کچھ ملے
جو ملے، جیسے ملے، مجھ کو ملے
نت نئی خواہش جنم لیتی رہی!
دیکھ کر مال غیر ، یہ بھی ملے!
خواہشیں تو بے پناہ، سوچا ہے کیا؟
کیا ملے، کیسے ملے، کیونکر ملے؟
جانتے ہیں ہم سبھی، ہے ضرورت کم!
خواہشیں پھر چھا گئیں، کیوں کم ملے؟
آؤ خواہش اک کریں، عظمی سنو!
عہد وفاء بندگی، سب کچھ ملے!
طارق عظمی